صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 12
صحیح البخاری جلدی اله ۶۱ - كتاب المناقب سلما ( الواقعة: ۲۷) اس سے دوسرے درجہ پر دوسرا گر وہ اصحب اليَمِينِ کا ہے۔ (الواقعۃ:۲۸) اس مبارک معاشرہ میں کوئی تکلیف دہ بات نہیں ہوگی۔ اس کا سایہ حکومت لمبا اور آرام دہ ہوگا۔ تیسرا گروہ اَصْحَبُ الْمَشْمَةِ (الواقعة : ١٠) کا جنہیں اَصْحَبُ الشِّمَالِ (الواقعہ: (۴۲) بھی کہا گیا ہے۔ جن کا سایہ آرام دہ نہیں بلکہ سخت تکلیف دہ ہوگا۔ فی سَمُومٍ وَحَمِيمٍ (الواقعہ: (۴۳) یعنی وہ گرم ہواؤں اور گرم پانیوں میں رہیں گے ۔ جن کے متعلق یہ بھی آتا ہے کہ وَ كَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيمِ (الواقعه : ۴۷) اور وہ بڑے گناہ (یعنی شرک) پر اصرار کرتے تھے۔ اسلام کے مبارک اصول تعلیم کی برکت سے دنیا میں پہلے دو گروہ پیدا کر دیئے گئے۔ نہ صرف حجاز و عرب ہی کی سرزمین نے اپنے معاشرہ میں سلامتی ہی سلامتی دیکھی بلکہ اس کی بدولت دنیا کے تمام ممالک بلا تفریق و تمیز امن و سلامتی کا گہوارہ صدیوں تک بنے رہے۔ سولہویں صدی عیسوی تک اسلامی مملکت کی حدود ایک طرف چین تک اور دوسری طرف جرمنی اور فرانس تک ممتد تھیں اور شمال مغرب میں مراکش اور غانا تک اور جنوب میں جزائر انڈو نیشیا تک۔ اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ اور سلام سلام کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ سب باشندے بلا تمیز وحدت واخوت کی لڑی میں یکساں پروئے ہوئے تھے۔ ان میں جنس، قوم و ملک کا نشیب و فراز نہ تھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّة ( النور : ۳۶) کا مبارک درس با وجود اختلاف السنه سب کو ازبر کرایا ہوا تھا۔ پھر شمال کی طرف سے یورپ کی عیسائی حکومتوں نے یورش شروع کی اور تین صدیوں کے عرصہ میں مسلمانوں کی حکومتوں پر ایک ایک کر کے قبضہ کر لیا۔ ہندوستان، انڈو نیشیا اور براعظم افریقہ کا وسیع اسلامی ملک رفتہ رفتہ انگریزوں، فرانسیسیوں، پرتگیزوں، جرمن، اٹلی وغیرہ میں بٹ گیا۔ اسلام کے پر امن پیغام توحید و سلام کے عوض میں عیسائیت نے ان زیر تسخیر ممالک کو کیا دیا؟ تفرقہ قومیت اور جنسیت کی لعنت جو ساری دنیا کے لئے باعث جنگ و جدال ہے۔ شوم کے معنی ہیں نحوست، کشت و خون ۔ فقر وفاقہ کی جس نحوست میں اس وقت دنیا کی اکثریت مبتلا ہے وہ ظاہر ہے، محتاج بیان نہیں۔ لیکن اب ایک نیا دور شروع ہے جس میں ملکی تقسیم اور قومیت و جنسیت اور دینی تعصب کی لعنت نے عیسائی اقوام میں پھوٹ ڈال دی ہے جس سے زیر تسخیر ممالک و اقوام ایک ایک کر کے آزاد ہو رہے ہیں۔ یہ آزادی آسمانی تدبیر سے عمل میں آرہی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت قبائل عرب عَيْبَةُ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرُهَا کی اس لعنت کی ہی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ آپ کے پیغام توحید و سلامتی نے ان کی قدیم دشمنیوں کو ٹھنڈا کیا اور انہیں آپس میں بھائی بھائی بنادیا اور آج پھر بنی نوع انسان پہلے سے بڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام توحید و اخوت کے محتاج ہیں۔ خلاصہ یہ کہ امام بخاری نے روایت نمبر ۳۴۹۹ کے آخر میں لفظ شوم وغیرہ کی گردان بلاوجہ نہیں کی بلکہ اسلام کے سنہری اصل کی قیمت و قدر ، مثبت و منفی جہت سے نمایاں کی ہے جس کی وجہ سے مجھے بھی گذشتہ صدیوں