صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 207 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 207

صحیح البخاری جلد ۲۰۷ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي ال۔حَتَّى لَا أكُلُ الْخَيْرَ وَلَا أَلْبَسُ خمیری روٹی نہیں کھاتا تھا اور نہ دھاری دار چادر الْحَبِيْرَ وَلَا يَحْدُمُنِي فُلَانٌ وَلَا پہنتا تھا اور نہ فلاں مرد اور نہ فلاں عورت میری فَلَانَةُ وَكُنْتُ أُلْصِقُ بَطْنِي بِالْحَصْبَاءِ خدمت کرتے تھے۔اور بھوک کے مارے میں اپنا مِنَ الْجُوعِ وَإِنْ كُنْتُ لَأَسْتَقْرِئُ پیٹ کنکریلی زمین سے لگائے رکھتا تھا اور کبھی الرَّجُلَ الْآيَةَ هِيَ مَعِي كَيْ يَنْقَلِبَ کسی شخص سے سرسری آیت کا مفہوم پوچھ لیتا تھا بِي فَيُطْعِمَنِي وَكَانَ أَخْيَرَ النَّاسِ جو مجھے یاد ہوتی تا وہ مجھے اپنے گھر لے جائے اور لِلْمَسَاكِيْنِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كَانَ کھانا کھلائے۔اور جعفر بن ابی طالب مسکینوں يَنْقَلِبُ بِنَا فَيُطْعِمُنَا مَا كَانَ فِي بَيْتِهِ کے لئے سب لوگوں میں سے زیادہ اچھے تھے۔حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُخْرِجُ إِلَيْنَا الْعُكَّةَ ہمیں اپنے ساتھ لے کر گھر کو لوٹتے اور جو بھی الَّتِي لَيْسَ فِيْهَا شَيْءٌ فَيَشْقُهَا (۱) ان کے گھر میں ہو تا ہمیں کھلا دیتے یہاں تک کہ وہ کبھی ہمارے پاس وہ کپی جس میں کچھ نہ ہوتا فَنَلْعَقُ مَا فِيْهَا۔طرفه ۵۴۳۲ أَنَّ باہر لے آتے۔ہم اس کو پھاڑ دیتے اور جو اُس میں ہو تا اسے چاٹ لیتے۔۳۷۰۹ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۳۷۰۹؛ عمرو بن علی ( فلاس) نے ہم سے بیان کیا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا که یزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔اسماعیل بن ابی إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِي خالد نے ہمیں بتایا کہ شعبی سے روایت ہے کہ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی عادت تھی کہ إِذَا سَلَّمَ عَلَى ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: جب حضرت جعفر کے بیٹے کو سلام کہتے تو یہ کہتے : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ ”اے دو پنکھ والے کے بیٹے تم پر سلامتی ہو " {قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ كُنْ { اور ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: عربی زبان فِي جَنَاحِيْ كُنْ فِي نَاحِيَتِي كُلُّ میں کہتے ہیں: كُنْ فِي جَنَاحِی۔یعنی میرے پہلو 1) فَيَفْقُهَا کی بجائے عمدۃ القاری میں فَنَهُقُھا کا لفظ ہے۔(عمدۃ القاری جزء 1 صفحہ ۲۱۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔(۲) یہ الفاظ بخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی کے مطابق ہیں۔( بخاری جلد اول صفحہ ۵۲۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔