صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 205
صحیح البخاری جلد ۲۰۵ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ أَلَا رہو اور آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے اس طور أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِّمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا سے کہ میں نے آپ کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبْرَانِ أَرْبَعًا سینے میں محسوس کی اور آپ نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایسی بات نہ بتلاؤں جو اس بات سے بہتر وَثَلاثِيْنَ وَتُسَبْحَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ہو جو تم نے مانگی ہے؟ جب تم اپنے بستروں پر لیٹو وَتَحْمَدَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمَا مِنْ خَادِمٍ۔اطرافه ۳۱۱۳ ،۵۳۶۱، ۵۳۶۲، ۶۳۱۸ تو چو نیس بار اللہ اکبر اور تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمد اللہ کہو تو یہ بات تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔سعد ٣٧٠٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ٣٧٠٦: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم أَبِيْهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن سعد بن ابی وقاص) سے سنا۔انہوں نے أَنْ تَكُونَ اپنے باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی وَسَلَّمَ لِعَلِي أَمَا تَرْضَى مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُّوْسَى۔طرفه : ۴۴۱۶ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا: کیا تم اس سے خوش نہیں ہوتے کہ تم میرے ساتھ ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ کے ساتھ ہارون۔:۳۷۰۷ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ :۳۷۰۷ علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے ، ایوب نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے عبیدہ سے، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اقْضُوْا كَمَا عِبیدہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے ابْنِ سِيْرِينَ عَنْ عَبِيْدَةَ عَنْ عَلِي عبدو نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے کہا: تم فیصلہ کر لیا کرو جیسا کہ تم پہلے کیا کرتے تھے كُنتُمْ تَقْصُوْنَ فَإِنِّي أَكْرَهُ الْاِخْتِلَافَ کیونکہ میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں تا وقتیکہ حَتَّى يَكُوْنَ النَّاسُ جَمَاعَةً أَوْ سب لوگ ایک جماعت بن جائیں یا میں بھی اپنے أَمُوْتَ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي فَكَانَ ساتھیوں کی طرح وفات پا جاؤں۔ابن سیرین