صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 203
صحیح البخاری جلد -۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي لِأَمِيْرِ الْمَدِينَةِ يَدْعُو عَلِيًّا عِنْدَ کہا: یہ فلاں شخص حضرت علی کو منبر کے پاس بیٹھ الْمِنْبَرِ قَالَ فَيَقُولُ مَاذَا قَالَ يَقُوْلُ کر بُرا بھلا کہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حضرت سہل لَهُ أَبُوْ تُرَابٍ فَضَحِكَ قَالَ وَاللهِ مَا نے پوچھا: کیا (کہتا ہے؟) اس نے کہا: ان کو سَمَّاهُ إِلَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابوتراب کہتا ہے۔یہ سن کر حضرت سہل ہنس وَسَلَّمَ وَمَا كَانَ لَهُ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَحَبَّ إِلَيْهِ پڑے۔کہنے لگے: بخدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ان کا یہ نام رکھا تھا اور حضرت علی کو اس سے مِنْهُ فَاسْتَطْعَمْتُ الْحَدِيثَ سَهْلًا بڑھ کر اور کوئی نام پیارا نہ تھا۔میں نے بات کا مزا وَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ كَيْفَ ذَلِكَ قَالَ اُٹھا کر حضرت سہل سے پوچھا۔میں نے کہا: دَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى فَاطِمَةَ ثُمَّ خَرَجَ ابو عباس ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام فَاضْطَجَعَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ النَّبِيُّ کیسے رکھا تھا؟ انہوں نے کہا: حضرت علی حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ ابْنُ عَمَكِ فاطمہ کے پاس گئے اور پھر باہر چلے آئے اور مسجد قَالَتْ فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ میں لیٹ رہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَوَجَدَ رِدَاءَهُ قَدْ سَقَطَ عَنْ ظَهْرِهِ تمہارے چا کا بیٹا کہاں ہے؟ حضرت فاطمہ نے کہا: وَخَلَصَ التَّرَابُ إِلَى ظَهْرِهِ فَجَعَلَ مسجد میں۔وہاں سے نکل کر آپ ان کے پاس يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ فَيَقُولُ آئے اور دیکھا کہ ان کی چادر ان کی پیٹھ سے گر پڑی ہے اور مٹی ان کی پیٹھ کو لگی ہوئی ہے۔تو آپ اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ مَرَّتَيْنِ۔ان کی پیٹھ سے مٹی پونچھنے لگے اور یہ فرما رہے تھے: اطرافه : ۴۴۱، ۶۲۰۴، ۶۲۸۰ ابو تراب اُٹھ بیٹھو۔ابو تراب اُٹھ بیٹھو۔٣٧٠٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ ۳۷۰۴: محمد بن رافع نے ہم سے بیان کیا کہ حسین حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ أَبِي (بن) على جعفی) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زائدہ حَصِيْنٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ سے زائدہ نے ابو حصین سے، ابوحصین نے سعد جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ بن عبیدہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک عُثْمَانَ فَذَكَرَ عَنْ مَّحَاسِن عَمَلِهِ قَالَ شخص حضرت (عبد اللہ ابن عمرؓ کے پاس آیا اور اس نے حضرت عثمان کے متعلق پوچھا۔تو انہوں لَعَلَّ ذَلِكَ يَسُوءُكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ