صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 202
صحیح البخاری جلد ۲۰۲ -۲۲ کتاب فضائل أصحاب النبي ام ۳۷۰۲ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۳۷۰۲: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا کہ حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ حاتم بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سَلَمَةَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَن يزيد بن ابی عبید سے، یزید نے سلمہ بن اکوع) النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جنگ خیبر میں خَيْبَرَ وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ فَقَالَ أَنَا أَتَخَلَّفُ حضرت علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہ گئے عَنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھے اور ان کو آنکھوں کی تکلیف تھی۔پھر انہوں فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى الله نے سوچا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةَ پیچھے رہ جاؤں، اچھی بات نہیں۔تو حضرت علی نکل پڑے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملے۔الَّتِي فَتَحَهَا اللهُ فِي صَبَاحِهَا قَالَ جب اس رات کی شام ہوئی جس کی صبح کو اللہ نے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فتح دی تو رسول اللہ صل ﷺ نے فرمایا: کل میں اس لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ الرَّايَةَ شخص کو جھنڈا دوں گا یا فرمایا: وہ شخص جھنڈا لے گا غَدًا رَّجُلًا يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ أَوْ جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت رکھتا ہے۔یا قَالَ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُوْلَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، عَلَيْهِ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِي وَمَا نَرْجُوْهُ اس کے ذریعہ اللہ فتح دے گا۔تو ہم کیا دیکھتے ہیں فَقَالُوْا هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُوْلُ اللهِ که حضرت علی آرہے ہیں۔ان (کے آنے) کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ فَفَتَحَ ہیں امید نہ تھی۔لوگوں نے کہا: حضرت علی آگئے ہیں۔تو رسول اللہ صلی الم نے ان کو جھنڈا اللهُ عَلَيْهِ۔اطرافه ۲۹۷۵، ۴۲۰۹ دیا اور اللہ نے ان کے ذریعہ سے فتح دی۔۳۷۰۳: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۳۷۰۳ : عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي عبد العزيز بن ابی حازم نے اپنے باپ سے روایت حَازِمٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ ایک شخص حضرت سہل سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَ هَذَا فُلَانٌ بن سعد کے پاس آیا اور مدینہ کے امیر کا نام لے کر