صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 201
صحیح البخاری جلد - کتاب فضائل أصحاب النبي ام أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُفْتَحُ فرمایا: کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جس کے اللهُ عَلَى يَدَيْهِ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ ہاتھوں پر اللہ فتح دے گا۔سہل کہتے تھے: وہ لوگ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا ساری رات چہ میگوئیاں کرتے رہے کہ ان میں أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُوْلِ الله سے کس کو وہ جھنڈا دیا جائے گا؟ جب لوگ صبح کو اٹھے تو سویرے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُوْ کے پاس گئے۔ان میں سے ہر ایک امید رکھتا تھا اللَّهِ أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي کہ اس کو وہ جھنڈا دیا جائے گا۔آپ نے فرمایا: طَالِبٍ فَقَالُوْا يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ يَا على بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: رَسُوْلَ اللهِ قَالَ فَأَرْسِلُوْا إِلَيْهِ فَأْتُونِي يا رسول اللہ ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔آپ نے بِهِ فَلَمَّا جَاءَ بَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا فرمایا: ان کے پاس کسی کو بھجوا دو اور انہیں میرے لَهُ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَّمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ پاس لے آؤ۔جب وہ آئے تو آپ نے ان کی فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُوْلَ آنکھوں پر اپنا لعاب لگایا اور ان کے لئے دعا کی۔اللهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُوْنُوْا مِثْلَنَا فَقَالَ وہ ایسے اچھے ہو گئے جیسے کہ ان کو کوئی بیماری نہ انْفُذُ عَلَى رِسُلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ تھی اور آپ نے ان کو جھنڈا دیا۔حضرت علیؓ نے بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ کہا: یا رسول اللہ ! کیا ان سے اس وقت تک لڑتا وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقٌّ رہوں کہ وہ ہماری طرح ہو جائیں؟ آپ نے اللَّهِ فِيْهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِكَ فرمایا: آہستگی سے سنبھل کر ان کے اندر جاؤ۔رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَّكَ مِنْ أَنْ يَكُوْنَ جب ان کے آنگن میں ڈیرے ڈال دو تو پھر ان کو اسلام کی طرف بلاؤ اور ان کو وہ باتیں بتاؤ جن میں اللہ کا حق ان پر واجب ہے کیونکہ اگر تیرے ذریعہ سے اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو بخدا تیرے لئے بہتر ہے کہ تجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ۔اطرافه ۲۹۴۲، ۳۰۰۹، ۴۲۱۰