صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 201
صحیح البخاری جلدی ۲۰۱ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ فرمایا: کل میں ایسے شخص کو جھنڈا ے شخص کو جھنڈا دوں گا جس کے اللهُ عَلَى يَدَيْهِ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ ہاتھوں پر اللہ فتح دے گا۔ سہل کہتے تھے : وہ لوگ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا ساری رات چہ میگوئیاں کرتے رہے کہ ان میں سے کس کو وہ جھنڈا دیا جائے گا ؟ جب لوگ صبح کو أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ اٹھے تو سویرے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُوْ أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي کے پاس گئے۔ ان میں سے ہر ایک امید رکھتا تھا کہ اس کو وہ جھنڈا دیا جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا: طَالِبِ فَقَالُوا يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ يَا علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: رَسُوْلَ اللهِ قَالَ فَأَرْسِلُوْا إِلَيْهِ فَأْتُونِي يارسول اللہ! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں۔ آپ نے بِهِ فَلَمَّا جَاءَ بَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا فرمایا: ان کے پاس کسی کو بھجوا دو اور انہیں میرے لَهُ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَّمْ يَكُنْ بِهِ وَجَع پاس لے آؤ۔ جب وہ آئے تو آپ نے ان کی فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُوْلَ آنکھوں پر اپنا لعاب لگایا اور ان کے لئے دعا کی۔ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُوْنُوْا مِثْلَنَا فَقَالَ وہ ایسے اچھے ہو گئے جیسے کہ ان کو کوئی بیماری نہ انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ تھی اور آپ نے ان کو جھنڈا دیا۔ حضرت علیؓ نے بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ کہا: یا رسول اللہ ! کیا ان سے اس وقت تک لڑتا وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ رہوں کہ وہ ہماری طرح ہو جائیں؟ آپ نے اللهِ فِيْهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِكَ فرمایا: آہستگی سے سنبھل کر ان کے اندر جاؤ۔ جب ان کے آنگن میں ڈیرے ڈال دو تو پھر رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَّكَ مِنْ أَنْ يَكُوْنَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ۔ اطرافه: ۲۹۴۲، ۳۰۰۹، ۴۲۱۰ ان کو اسلام کی طرف بلاؤ اور ان کو وہ باتیں بتاؤ جن میں اللہ کا حق ان پر واجب ہے کیونکہ اگر تیرے ذریعہ سے اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو بخدا تیرے لئے بہتر ہے کہ تجھے سرخ اونٹ مل جائیں۔