صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 9
صحیح البخاری جلدی ۹ ۶۱ - كتاب المناقب وَمَا يُنْهَى عَنْ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ: یعنی زمانہ جاہلیت کے فخر کی جو باتیں ممنوع ہیں۔ مفاخر عرب مشہور ہیں۔ قبائل ایک دوسرے پر اپنے حسب و نسب کی وجہ سے اپنی فضیلت کا فخر کیا کرتے تھے اور انہی فخریہ مقابلوں میں خونریز جنگیں شروع ہو جایا کرتی تھیں جو مدتوں رہتیں اور قبیلوں کو تہ تیغ کر تیں اور لقمہ اجل بنا دیتیں۔ اسلام نے اس قسم کے مفاخر کی قطعی طور پر ممانعت فرمائی۔ الشُّعُوبُ : النَّسْبُ الْبَعِيدُ وَالْقَبَائِلُ دُونَ ذَلِك - شعب دور کا نسب اور قبیلہ اس سے کم۔ یہ قول مجاہد کا ہے جو طبری نے نقل کیا ہے۔ اس سے ہے۔ اس سے شعب اور قبیلہ کے درمیان فرق ظاہر ہے کہ شہ ظاہر ہے کہ شعب ( قوم) کئی قبیلوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ مصر و ربیعہ شعب کہلاتے ہیں اور ان کی شاخیں قبیلہ ۔ اس تعلق میں عمرو بن احمر کا یہ شعر نقل کیا گیا ہے: مِنْ شَعْبٍ هَمْدَانَ أَوْ سَعْدِ الْعَشِيرَةِ أَوْ خَوْلَانَ أَوْ مَذْحِةٍ هَاجُوا لَهُ طَرَبًا یہ خاندان ہمدان قوم سے ہے یا سعد سے یا خولان یا ند حج سے جسے دیکھ کر وہ خوشی کے مارے مضطرب ہو گئے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۴۵) باب ہذا کے تحت گیارہ روایتیں ہیں۔ روایت نمبر ۳۴۹۳، ۳۴۹۶ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّانِ يا لِهَذَا الشَّانِ سے حکومت مراد ہے جو قرآن مجید میں قوم کی امانت قرار دی گئی ہے اور لوگوں ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اس امانت کی حفاظت کے لئے اہل کارکن منتخب کریں۔ فرماتا ہے : إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمْنَتِ إِلَى أَهْلِهَا وَ إِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمُ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (النساء : (۵۹) اللہ تمہیں یقینا (اس بات کا حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے مستحقوں کے سپرد کرو اور (یہ کہ) جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل سے فیصلہ کرو۔ اللہ جس بات کی تمہیں نصیحت کرتا ہے وہ یقینا بہت (ہی) اچھی ہے۔ اللہ یقیناً بہت سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔ (ترجمہ از تفسیر صغیر) کا اسلام کا مذکورہ بالا حکم نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشہ مفہوم یہ ہے کہ جب انسان حکومت کی ذمہ داری کو بے نفس ہو کر قبول کرتا ہے تو اس کے کاموں میں برکت دی جاتی ہے ورنہ نفس کا طمع ولالچ اس کو خیر و برکت سے محروم کر دیتا ہے۔ اس سے عَيْبَةُ الْجَاهِلِيَّةِ اور دَعْوَي الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا کا مفہوم بھی واضح ہو جاتا ہے۔ عَيْبة کے معنی نقائص بتائے جاچکے ہیں۔ نیز عيبة کے معنی ہیں سَرِيرَةُ النَّفْسِ نفس کی پوشیدگی ۔ انانیت و عجب، خود پسندی و خودستائی و خود نمائی اصل جڑ تھی مفاخر جاہلیت کی، جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استیصال کیا اور آئندہ کے لئے اعلان فرمادیا کہ معیار فضیلت ؛ حسب و نسب یا قومیت اور ملکی انتساب یا رنگت کی سپیدی سرخی نہیں بلکہ تقویٰ اللہ ہے اور منع فرمایا کہ حکومت کی خواہش نہ رکھو۔