صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 198
صحیح البخاری جلد ۱۹۸ - کتاب فضائل أصحاب النبي ام أُمِرَ فَإِنِّي لَمْ أَعْزِلْهُ عَنْ عَجْزِ کہ وہ کسی کام کے کرنے سے عاجز تھے اور نہ اس لئے وَلَا خِيَانَةٍ وَقَالَ أُوْصِى الْخَلِيفَةً کہ کوئی خیانت کی تھی۔نیز فرمایا: میں اس خلیفہ کو جو میرے بعد ہو گا پہلے مہاجرین کے بارے میں وصیت مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِيْنَ أَنْ کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق ان کے لئے پہچانیں يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ وَيَحْفَظَ لَهُمْ اور ان کی عزت کا خیال رکھیں اور میں انصار کے حُرْمَتَهُمْ وَأَوْصِيْهِ بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا متعلق بھی عمدہ سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيْمَانَ مِنْ انہوں نے مہاجرین سے پہلے اپنے گھروں میں ایمان کو جگہ دی۔جو ان میں سے نیک کام کرنے والا ہو ، قَبْلِهِمْ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَأَنْ اسے قبول کیا جائے اور جو ان میں سے قصور وار ہو يُعْفَى عَنْ مُّسِيْئِهِمْ وَأُوْصِيْهِ بِأَهْلِ اس سے درگذر کیا جائے۔اور میں سارے شہروں الْأَمْصَارِ خَيْرًا فَإِنَّهُمْ رِدْءُ الْإِسْلَامِ کے باشندوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرنے کی اس کو وَجُبَاةُ الْمَالِ وَغَيْظُ الْعَدُقِ وَأَنْ وصیت کرتا ہوں۔کیونکہ وہ اسلام کے پشت پناہ ہیں اور مال کے محصل ہیں اور دشمن کے کڑھنے کا موجب يُؤْخَذَ مِنْهُمْ إِلَّا فَضْلُهُمْ عَنْ ہیں اور یہ کہ ان کی رضا مندی سے ان سے وہی لیا رِضَاهُمْ وَأَوْصِيْهِ بِالْأَعْرَابِ خَيْرًا جائے جو اُن کی ضرورتوں سے بچ جائے اور میں اس فَإِنَّهُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ وَمَادَّةُ الْإِسْلَام کو بدوی عربوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی أَنْ يُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ وَيُرَدَّ وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ عربوں کی جڑھ ہیں اور اسلام کا مادہ ہیں۔یہ کہ ان کے ایسے مالوں سے لیا عَلَى فُقَرَائِهِمْ وَأُوْصِيْهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ جائے جو ان کے کام کے نہ ہوں اور پھر انہی کے وَذِمَّةِ رَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ محتاجوں کو دے دیا جائے۔اور میں اس کو اللہ کے أَنْ يُوْفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَأَنْ يُقَاتَلَ ذمہ اور اس کے رسول صلی ال نیم کے ذمہ کی وصیت مِنْ وَرَائِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُوْا إِلَّا طَاقَتَهُمْ کرتا ہوں کہ جن لوگوں سے عہد کیا گیا ہو اُن کا عہد اُن کیلئے پورا کیا جائے اور ان کی حفاظت کیلئے ان فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِهِ فَانْطَلَقْنَا سے مدافعت کی جائے اور ان سے بھی اتنا ہی لیا نَمْشِي فَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ جائے جتنا ان کی طاقت ہو۔جب آپ فوت ہو گئے يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَتْ ہم ان کو لے کر نکلے اور پیدل چلنے لگے تو حضرت