صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 197
صحیح البخاری جلدی ۱۹۷ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي عليهم كَانَ مِنْ شَيْءٍ أَهَمُ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ ہے۔ کہنے لگے: الحمد للہ ، اس سے بڑھ کر اور کسی چیز کا مجھے فکر نہ تھا۔ جب میں مر جاؤں تو مجھے اٹھا کر فَإِذَا أَنَا قَضَيْتُ فَاحْمِلُوْنِي ثُمَّ سَلَّمْ لے جانا۔ پھر سلام کہنا اور یہ م کہنا اور یہ کہنا کہ عمر بن خطاب فَقُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اجازت مانگتا ہے۔ اگر انہوں نے میرے لئے فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَأَدْخِلُوْنِي وَإِنْ اجازت دی تو مجھے اندر (حجرے میں تدفین کیلئے ) رَدَّتْنِي رُدُّوْنِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ لے جانا۔ اور اگر انہوں نے میری بات نہ مانی تو پھر وَجَاءَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ حَفْصَةُ مجھے مسلمانوں کے مقبرے میں واپس لے جانا۔ اور ام المومنین حضرت حفصہ آئیں اور دوسری عور وَالنِّسَاءُ تَسِيرُ مَعَهَا فَلَمَّا رَأَيْنَاهَا بھی ان کے ساتھ آئیں۔ جب ہم نے انکو دیکھا۔ قُمْنَا فَوَلَجَتْ عَلَيْهِ فَبَكَتْ عِنْدَهُ ہم کھڑے ہو گئے تو وہ ان کے پاس اندر گئیں اور سَاعَةً وَاسْتَأْذَنَ الرِّجَالُ فَوَلَجَتْ کچھ دیر اُن کے پاس روتی رہیں۔ کچھ مردوں نے عورتیں اندر آنے کی اجازت مانگی تو وہ مردوں کے آتے ہی دَاخِلًا لَّهُمْ فَسَمِعْنَا بُكَاءَهَا مِنَ اندر چلی گئی اور ہم اندر سے ان کے رونے کی آواز الدَّاخِلِ فَقَالُوا أَوْصِ يَا أَمِيرَ سنتے رہے۔ لوگوں نے کہا: امیر المومنین! وصیت الْمُؤْمِنِينَ اسْتَخْلِفْ قَالَ مَا أَجِدُ کر دیں کسی کو خلیفہ مقرر کر جائیں۔ انہوں نے فرمایا: أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ میں اس خلافت کا حقدار ان چند لوگوں سے بڑھ کر أَوِ الرَّهْطِ الَّذِيْنَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ اورسی کو نہیں پاتا کہ رسول اللہ ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ آپ ان سے راضی تھے اور انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت زبیر، حضرت رَاضِ فَسَمَّى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ طلحہ حضرت سعد اور حضرت عبد الرحمن ( بن عوف) وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ وَقَالَ کا نام لیا اور کہا: عبداللہ بن عمر" تمہارے ساتھ شریک يَشْهَدُكُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ وَلَيْسَ رہے گا اور اس خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ گویا یہ بات عبد اللہ کو تسلی دینے کے لئے کہی ہے۔ لَهُ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ كَهَيْئَةِ التَّعْزِيَةِ اگر خلافت سعد کو مل گئی۔ پھر وہی خلیفہ ہو ورنہ جو لَهُ فَإِنْ أَصَابَتِ الْإِمْرَةُ سَعْدًا فَهُوَ الرحم بھی تم میں سے امیر بنایا جائے وہ سعد سے مدد لیتا ذَاكَ وَ إِلَّا فَلْيَسْتَعِنْ بِهِ أَيُّكُمْ مَا رہے کیونکہ میں نے ان کو اس لئے معزول نہیں کیا