صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 199 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 199

صحیح البخاری جلدی ۱۹۹ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم أَدْخِلُوْهُ فَأُدْخِلَ فَوُضِعَ هُنَالِكَ مَعَ عبد اللہ بن عمرؓ نے (حضرت عائشہ کو) السلام علیکم صَاحِبَيْهِ فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ دَفْنِهِ اجْتَمَعَ کہا اور کہا: عمر بن خطاب اجازت مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ان کو اندر لے آؤ۔ چنانچہ ان کو اندر لے هَؤُلَاءِ الرَّهْطُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ گئے اور وہاں ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ اجْعَلُوا أَمْرَكُمْ إِلَى ثَلَاثَةٍ مِنْكُمْ رکھ دیئے گئے۔ جب ان کی تدفین سے فراغت ہوئی فَقَالَ الزُّبَيْرُ قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي إِلَى تو وہ آدمی جمع ہوئے (جن کا نام حضرت عمرؓ نے لیا تھا ) عَلِي فَقَالَ طَلْحَةُ قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِي حضرت عبد الرحمن بن عوف) نے کہا: اپنا معاملہ دو۔ حضرت إِلَى عُثْمَانَ وَقَالَ سَعْدٌ قَدْ جَعَلْتُ اپنے میں سے تین آدمیوں کے سپرد کر دو زبیر نے کہا: میں نے اپنا اختیار حضرت علی کو دیا اور أَمْرِي إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حضرت طلحہ نے کہا: میں : میں نے اپنا اختیار حضرت عثمان فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَيُّكُمَا تَبَرَّأَ کو دیا اور اور حضرت سعد نے کہا: سعد نے کہا: میں نے اپنا اختیار مِنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَجْعَلُهُ إِلَيْهِ وَاللهُ حضرت عبد الرحمن بن عوف کو دیا۔ حضرت عبد الرحمن نے (حضرت علیؓ اور حضرت عثمان سے) کہا: آپ عَلَيْهِ وَالْإِسْلَامُ لَيَنْظُرَنَّ أَفْضَلَهُمْ دونوں میں سے جو بھی اس امر سے دستبردار ہوگا ہم فِي نَفْسِهِ فَأُسْكِتَ الشَّيْخَانِ فَقَالَ اس کے حوالے اس معاملہ کو کر دیں گے اور اللہ اور عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَفَتَجْعَلُوْنَهُ إِلَيَّ وَاللهُ اسلام اس کا نگران ہو گا۔ ان میں سے اسی کو تجویز کرے گا جو اس کے نزدیک افضل ہے۔ اس بات عَلَيَّ أَنْ لَّا آلُوَ عَنْ أَفْضَلِكُمْ قَالَا نے دونوں بزرگوں کو خاموش کر دیا۔ پھر حضرت نَعَمْ فَأَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا فَقَالَ لَكَ عبد الرحمن نے کہا: کیا آپ اس معاملہ کو میرے قَرَابَةٌ مِّنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ سپرد کرتے ہیں؟ اور اللہ میرا نگران ہے کہ جو آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَدَمُ فِي الْإِسْلَامِ میں سے افضل ہے اس کو تجویز کرنے کے متعلق کوئی مَا قَدْ عَلِمْتَ فَاللَّهُ عَلَيْكَ لَئِنْ بھی کمی نہیں کروں گا۔ ان دونوں نے کہا: اچھا۔ پھر حضرت عبد الرحمن ان دونوں میں سے ایک کا ہاتھ أَمَّرْتُكَ لَتَعْدِلَنَّ وَلَئِنْ أَمَّرْتُ عُثْمَانَ پکڑ کر الگ لے گئے اور کہنے لگے: آپ کو رسول اللہ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِيْعَنَّ ثُمَّ خَلَا بِالْآخَرِ صلی العلیم سے رشتہ کا تعلق ہے اور اس اسلام میں بھی وہ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا أَخَذَ مقام ہے جو آپ جانتے ہی ہیں۔ اللہ آپ کا نگران