صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 196
صحیح البخاری جلد ١٩٦ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي وَّثَمَانِيْنَ أَلْفًا أَوْ نَحْوَهُ قَالَ إِنْ وَفَى عبد الله بن عمر کو کہنے لگے: دیکھو مجھ پر کتنا قرض لَهُ مَالُ آلِ عُمَرَ فَأَدِهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ ہے؟ انہوں نے حساب کیا تو اس کو چھیاسی ہزار درہم یا کچھ اتنا ہی پایا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر عمر کے وَإِلَّا فَسَلْ فِي بَنِي عَدِي بْنِ كَعْبِ خاندان کی جائداد اس کو پورا کر دے تو پھر ان کی فَإِنْ لَّمْ تَفِ أَمْوَالُهُمْ فَسَلْ فِي جائداد سے اس کو ادا کر دو، اور نہ بنو عدی بن کعب قُرَيْشٍ وَلَا تَعْدُهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ فَأَدِ سے مانگنا۔اگر ان کی جائیدادیں بھی پورا نہ کریں تو عَنِّي هَذَا الْمَالَ انْطَلِقْ إِلَى عَائِشَةَ قریش سے مانگنا اور ان کے سوا کسی کے پاس نہ جانا۔یہ قرض میری طرف سے ادا کر دینا۔حضرت عائشہ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ فَقُلْ يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ اللَّم المومنین کے پاس جاؤ اور کہو: عمر آپ کو سلام السَّلَامَ وَلَا تَقُلْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِيْنَ کہتے ہیں اور امیرالمومنین نہ کہنا کیونکہ آج میں مومنوں فَإِنِّي لَسْتُ الْيَوْمَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ أَمِيرًا کا امیر نہیں ہوں۔اور کہو: عمر بن خطاب اس بات وَقُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ کی اجازت مانگتا ہے کہ اسے اسکے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے۔چنانچہ حضرت عبد اللہ نے أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ فَسَلَّمَ سلام کہا اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔پھر ان کے وَاسْتَأْذَنَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهَا فَوَجَدَهَا پاس اندر گئے تو انہیں دیکھا کہ بیٹھی ہوئی رو رہی قَاعِدَةً تَبْكِي فَقَالَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ ہیں۔حضرت عبد اللہ نے کہا: عمر بن خطاب آپ کو بْنُ الْخَطَّابِ السَّلَامَ وَيَسْتَأْذِنُ أَنْ سلام کہتے ہیں اور اجازت مانگتے ہیں کہ انکے دونوں يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ فَقَالَتْ كُنْتُ ساتھیوں کے ساتھ ان کو دفن کیا جائے۔حضرت عائشہ کہنے لگیں: میں اس جگہ کو اپنے لئے چاہتی تھی أُرِيدُهُ لِنَفْسِي وَلَأُوْثِرَنَّهُ بِهِ الْيَوْمَ اور آج میں اپنی ذات پر انکو مقدم کروں گی۔جب عَلَى نَفْسِي فَلَمَّا أَقْبَلَ قِيْلَ هَذَا حضرت عبد اللہ لوٹ کر آئے تو (حضرت عمرؓ سے) عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ جَاءَ قَالَ کہا گیا کہ یہ عبد اللہ بن عمرؓ آگئے ہیں۔انہوں نے کہا: مجھے اٹھاؤ۔تو ایک شخص نے آپ کو سہارا دے ارْفَعُوْنِي فَأَسْنَدَهُ رَجُلٌ إِلَيْهِ فَقَالَ کر اٹھایا۔انہوں نے پوچھا: تمہارے پاس کیا خبر مَا لَدَيْكَ قَالَ الَّذِي تُحِبُّ يَا أَمِيرَ ہے؟ (عبد اللہ نے) کہا: امیرالمومنین؟! وہی جو آپ الْمُؤْمِنِيْنَ أَذِنَتْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا پسند کرتے ہیں۔حضرت عائشہ نے اجازت دے دی