صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 195
صحیح البخاری جلدی ۱۹۵ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم تَكَلَّمُوْا بِلِسَانِكُمْ وَصَلَّوْا قِبْلَتَكُمْ ہیں اور تمہارے قبلے کی طرف نمازیں پڑھتے ہیں وَحَبُّوْا حَجَّكُمْ فَاحْتُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ اور تمہاری طرح حج کرتے ہیں۔ پھر حضرت عمرؓ کو اٹھا کر ان کے گھر لے گئے۔ ہم بھی ان کے ساتھ فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ وَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ چلے گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا مسلمانوں پر اس تُصِبْهُمْ مُصِيبَةٌ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ فَقَائِل سے پہلے کوئی ایسی مصیبت نہیں آئی۔ کوئی کہنے والا يَقُوْلُ لَا بَأْسَ وَقَائِلٌ يَقُوْلُ أَخَافُ یوں کہتا: کچھ ڈر نہیں۔ اور کوئی کہنے والا کہتا: میں تو عَلَيْهِ فَأْتِيَ بِنَيْدٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ ان کے بارے میں ڈرتا ہوں ( کہ وہ جانبر نہ ہوسکیں گے آخر ان کے پاس نبیذ (یعنی انگوروں کا شربت) مِنْ جَوْفِهِ ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ لایا گیا اور انہوں نے وہ پیا جو ان کے پیٹ سے نکل مِنْ جُرْحِهِ فَعَلِمُوْا أَنَّهُ مَيِّتْ فَدَخَلْنَا گیا۔ پھر ان کے پاس و س دودھ لایا گیا۔ انہوں نے پیا، عَلَيْهِ وَجَاءَ النَّاسُ فَجَعَلُوْا يُثْنُوْنَ وہ بھی زخم سے نکل گیا تو وہ سمجھ گئے کہ وہ جانبر نہیں عَلَيْهِ وَجَاءَ رَجُلٌ شَابٌ فَقَالَ أَبْشِرْ ہوں گے ۔ (عمرو بن میمون کہتے تھے :) ہم انکے پاس گئے اور لوگ بھی آئے ، ان کی تعریف کرنے لگے يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ لَكَ اور ایک نوجوان شخص آیا۔ اس نے کہا: امیر المومنین ! مِنْ صُحْبَةِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ آپ کو اللہ کی بشارت ہو۔ آپ کو رسول اللہ صلی علی رام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدَمٍ فِي الْإِسْلَامِ مَا کی صحبت نصیب ہوئی اور اسلام میں وہ اعلیٰ درجہ ملا قَدْ عَلِمْتَ ثُمَّ وَلِيْتَ فَعَدَلْتَ ثُمَّ ہے جو آپ خوب جانتے ہیں۔ پھر آپ خلیفہ ہوئے شَهَادَةً قَالَ وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَفَافٌ اور آپ نے انصاف کیا۔ پھر یہ شہادت ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میری تو یہ آرزو ہے کہ یہ باتیں برابر لَّا عَلَيَّ وَلَا لِي فَلَمَّا أَدْبَرَ إِذَا ہی برابر رہیں۔ نہ میرا مواخذہ ہو اور نہ مجھے ثواب إِزَارُهُ يَمَسُّ الْأَرْضَ قَالَ رُدُّوا عَلَيَّ ہے ۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا۔ دیکھا کہ اس کا الْغُلَامَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي ارْفَعْ ثَوْبَكَ تہبند زمین سے لگ رہا ہے ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس لڑکے کو میرے پاس واپس بھیج دو۔ فرمانے فَإِنَّهُ أَبْقَى لِتَوْبِكَ وَأَتْقَى لِرَبِّكَ، لگے میرے بھائی کے لیئے اپنا کپڑا تو اٹھاؤ کیونکہ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ انْظُرْ مَا عَلَيَّ یہ تمہارے کپڑے کو بچائے رکھے گا اور تمہارے مِنَ الدَّيْنِ فَحَسَبُوْهُ فَوَجَدُوْهُ سِتَّةً ربّ کے نزدیک تقوی کے زیادہ قریب ہے۔ پھر