صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 194
صحیح البخاری جلد قويه ۱۹۴ - کتاب فضائل أصحاب النبي ۶۲- سَبْعَةٌ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِّنَ دیکھا تو اس نے بارانی کوٹ اس پر پھینکا۔جب اس الْمُسْلِمِينَ طَرَحَ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَلَمَّا پارسی نے سمجھ لیا کہ وہ پکڑا گیا ہے تو اُس نے اپنا گلا کاٹ لیا۔اور حضرت عمرؓ نے حضرت عبد الرحمن بن ظَنَّ الْعِلْجُ أَنَّهُ مَأْخُوْذُ نَحَرَ نَفْسَهُ عوف کا ہاتھ پکڑ کر اُن کو آگے کیا اور جو لوگ حضرت وَتَنَاوَلَ عُمَرُ يَدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عمرؓ کے قریب تھے انہوں نے وہ ماجرا دیکھا جو میں عَوْفٍ فَقَدَّمَهُ فَمَنْ يَّلِي عُمَرَ فَقَدْ نے دیکھا اور مسجد کے اطراف میں جو تھے تو وہ نہیں جانتے تھے سوا اس کے کہ انہوں نے حضرت عمرؓ کی رَأَى الَّذِي أَرَى وَأَمَّا نَوَاحِي آواز نہ سنی اور وہ سبحان اللہ {سبحان اللہ } کہنے لگے الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُمْ لَا يَدْرُوْنَ غَيْرَ أَنَّهُمْ تو حضرت عبد الرحمن بن عوف) نے ان کو ملکی سی قَدْ فَقَدُوْا صَوْتَ عُمَرَ وَهُمْ يَقُولُونَ نماز پڑھائی۔جب وہ نماز سے فارغ ہو گئے تو انہوں سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ } فَصَلَّی نے کہا: ابن عباس دیکھو مجھ کو کس نے مارا؟ حضرت بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ صَلَاةً خَفِيْفَةً فَلَمَّا ابن عباس کچھ دیر تک ادھر گھومتے رہے پھر آئے اور انہوں نے بتایا کہ مغیرہ کے غلام نے۔حضرت انْصَرَفُوْا قَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسِ انْظُرُ مَنْ عمرؓ نے فرمایا: وہی جو کاریگر ہے ؟ حضرت ابن عباس قَتَلَنِي فَجَالَ سَاعَةً ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ نے کہا: ہاں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ اسے ہلاک غُلَامُ الْمُغِيْرَةِ قَالَ الصَّنَعُ قَالَ نَعَمْ کرے۔میں نے اس کے متعلق نیک سلوک کرنے قَالَ قَاتَلَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَمَرْتُ بِهِ مَعْرُوفًا ا حکم دیا تھا۔اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے میری موت کا ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں کی جو اسلام کا دعویٰ کرتا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَجْعَلْ مِيْتَنِي ہو۔ابن عباس ! تم اور تمہارا باپ پسند کرتے تھے کہ بِيَدِ رَجُلٍ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ قَدْ كُنْتَ یه پاری غلام مدینہ میں بہت آباد ہوں اور عباس ہی أَنْتَ وَأَبُوْكَ تُحِبَّانِ أَنْ تَكْثُرَ الْعُلُوجُ سب سے زیادہ ان غلاموں کو رکھنے والے تھے۔بِالْمَدِينَةِ وَكَانَ الْعَبَّاسُ أَكْثَرُهُمْ حضرت ابن عباس نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں ان کا کام تمام کر دوں یعنی اگر آپ چاہیں تو میں ان کو رَقِيقًا فَقَالَ إِنْ شِئْتَ فَعَلْتُ أَي مروا ڈالوں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم تو پھر غلطی کرو إِنْ شِئْتَ قَتَلْنَا قَالَ كَذَبْتَ بَعْدَ مَا گے جبکہ وہ تمہاری زبان میں باتیں کرنے لگ گئے ا الفاظ سُبحان الله فتح الباری مطبوعہ بولاق میں دو مرتبہ آئے ہیں۔( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۷۷)