صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 193
صحیح البخاری جلدی ۱۹۳ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم الْأَرْضَ مَا لَا تُطِيقُ قَالَا حَمَّلْنَاهَا رَکھتی ہو۔ ان دونوں نے کہا: ہم نے ایسا ہی لگان مقرر أَمْرًا هِيَ لَهُ مُطِيقَةٌ مَا فِيهَا كَبِيرُ کیا ہے جس کی طاقت زمین رکھتی زمین رکھتی ہے۔ اس میں چنداں زیادتی نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: پھر غور کر لو فَضْلٍ قَالَ انْظُرَا أَنْ تَكُوْنَا حَمَّلْتُمَا کر کہیں اس زمین پر ایسالگان مقرر کیا گیا ہو جس کی الْأَرْضَ مَا لَا تُطِيقُ { قَالَ } قَالَا لَا وہ طاقت نہ رکھتی ہو۔ { عمرو بن میمون کہتے تھے: } فَقَالَ عُمَرُ لَئِنْ سَلَّمَنِي اللهُ لَأَدَعَنَّ اِن دونوں نے کہا: نہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر اللہ نے مجھے سلامت رکھا تو میں ضرور اہل عراق أَرَامِلَ أَهْلِ الْعِرَاقِ لَا يَحْتَجْنَ إِلَى کی بیواؤں کو بلاؤں گا تا کہ یہ میرے بعد کبھی کسی رَجُلٍ بَعْدِي أَبَدًا قَالَ فَمَا أَتَتْ عَلَيْهِ شخص کی محتاج نہ ہوں۔ عمرو بن میمون کہتے تھے: إِلَّا رَابِعَةٌ حَتَّى أُصِيْبَ قَالَ إِنِّي پھر حضرت عمر پر ابھی چوتھی رات نہیں آئی تھی کہ وہ لَقَائِمُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ زخمی کئے گئے۔ کہتے تھے کہ جس دن وہ زخمی کئے گئے اس دن میں ایسے مقام پر کھڑا تھا کہ میرے اور ان عَبَّاسٍ غَدَاةَ أُصِيْبَ وَكَانَ إِذَا مَرَّ کے درمیان صرف حضرت عبد اللہ بن عباس ہی تھے بَيْنَ الصَّفَّيْنِ قَالَ اسْتَوُوْا حَتَّى إِذَا اور ان کی عادت تھی کہ جب دو صفوں میں سے لَمْ يَرَ فِيْهِمْ خَلَلًا تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ وَرُبَّمَا گذرتے تو فرماتے سیدھے ہو جاؤ۔ جب ان صفوں قَرَأَ سُورَةَ يُوْسُفَ أَوِ النَّحْلِ أَوْ نَحْوَ میں کوئی خلل نہ دیکھتے تو اس وقت آگے بڑھتے اور اللہ اکبر کہتے اور بسا اوقات سورۂ یوسف یا سورہ نحل ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حَتَّى یا ایسی ہی سورتیں پہلی رکعت میں پڑھتے تا لوگ جمع يَجْتَمِعَ النَّاسُ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ كَبَّرَ ہو جائیں۔ ابھی اللہ اکبر کہا ہی تھا کہ میں نے ان کو فَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ قَتَلَنِي أَوْ أَكَلَنِي کہتے سنا: کتے نے مجھے مار ڈالا ہے یا کہا: کاٹ کھایا الْكَلْبُ حِيْنَ طَعَنَهُ فَطَارَ الْعِلْجُ ہے۔ جب اس نے آپ کو زخمی کیا تو وہ پارسی دو دھاری چھری لئے ہوئے تھا جس کسی کے پاس دائیں بِسِكِّيْنِ ذَاتِ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى بائیں گذرتا تو اُس کو زخمی کرتا یہاں تک کہ اس نے أَحَدٍ يَمِينًا وَّلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ حَتَّی تیرہ آدمیوں کو رمیوں کو زخمی کیا۔ ان میں سے سات وفات طَعَنَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا مَاتَ مِنْهُمْ پاگئے ۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے جب یہ (1) لفظ قال فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۷۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔