صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 8
صحیح البخاری جلد A ۶۱ - كتاب المناقب مناقب کے ضمن میں محولہ بالا آیت کا یہی تعلق ہے۔اس آیت میں ارشاد اتَّقُوا دوبار دہرایا گیا ہے۔امام ابن حجر نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان کی روایت کا حوالہ دیا ہے کہ عبد اللہ بن دینار نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے، فرمایا: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ نَيْبَةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ النَّاسُ رَجُلاب مُؤْمِنْ تَقِيٌّ كَرِيمٌ عَلَى اللَّهِ وَفَاجِرُ شَقِيٌّ حَيْنُ عَلَى اللهِ ثُمَّ تَلَا يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وأنثى ( فتح الباری جزء ۱ صفحه ۶۴۴) اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: اللہ نے زمانہ جاہلیت کے عیوب اور گھمنڈ کی باتیں تم سے دور کر دی ہیں۔اے لوگو ! لوگ دو قسم کے ہیں مؤمن متقی جو اللہ کے حضور باوقار اور صاحب اخلاق فاضلہ ہو اور بد کار بد بخت اللہ کے حضور لا پروا۔اس کے بعد آپ نے سورۃ الحجرات کی محولہ بالا آیت (نمبر ۱۴) تلاوت فرمائی۔امام احمد بن حنبل اور ابن ابی حاتم نے بھی اسی مفہوم کا خطبہ نقل کیا ہے جس سے آپ نے مقام منی میں صحابہ کرام کو مخاطب فرمایا۔اس کے الفاظ یہ ہیں : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِن أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِ عَلَى أَعْجَيِي وَلَا لِعَجَمِي عَلَى عَرَب وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى خَيْرُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۶۴۴) لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔سنو! عربی کو انجمی پر اور انجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔اور نہ سرخ (سفید رنگ والے ) کو کالے (رنگ والے) پر اور نہ کالے کو سرخ پر کوئی فضیلت ہے مگر تقویٰ کے ذریعے سے۔اللہ کے حضور تم میں سے وہی سب سے اچھا ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے۔پہلی آیت جس کا کتاب المناقب میں حوالہ دیا گیا ہے، یہ ہے : يَايُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأَنْثَى 1۔وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات : ۱۴) اے لوگو! ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کئی گروہوں اور قبائل میں تقسیم کر دیا ہے تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔اللہ یقینا بہت علم رکھنے والا (اور) بہت خبر رکھنے والا ہے۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) دوسری آیت ہے : وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ( النساء: ۲) اس آیت کو نمایاں اس غرض سے کیا ہے کہ اس سے تقویٰ کا ایک دوسرا مفہوم بتانا مقصود ہے۔قرابت داروں کے تقویٰ سے مراد صلہ رحمی ہے۔اتَّقُوا الْأَرْحَام سے مراد اتَّقُوا ذَوِى الْأَرْحَامِ وَالْأَقَارِبِ ہے۔یعنی رشتہ داروں کا پاس رکھو۔ان کے ساتھ نیک تعلقات قائم کرنے کی نگہداشت رکھو۔1 (مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار، جزء ۵ صفحه ۴۱۱)