صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 183
صحیح البخاری جلدی ۱۸۳ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صلي صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ پھر آپ ان سے ایسی حالت میں جدا ہوئے کہ وہ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُوْنَ قَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ آپ سے خوش تھے۔ پھر آپ ان کے صحابہ کے مِنْ صُحْبَةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ ساتھ رہے اور آپ نے نہایت عمدگی سے ان کا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاكَ مَنْ ساتھ دیا اور اگر آپ ان سے جدا ہو گئے تو یقینا مِّنَ اللَّهِ تَعَالَى مَنَّ بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا آپ ایسی حالت میں ان سے جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے خوش ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ جو تم ذكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ نے رسول اللہ صلی علیہ ظلم کی صحبت اور آپ کی خوشنودی فَإِنَّمَا ذَاكَ مَنْ مِنَ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ مَنَّ کا ذکر کیا ہے تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جو اس بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جَزَعِي فَهُوَ ے مجھ پر کیا۔ اور جو تم نے حضرت ابو بکر کی صحبت مِنْ أَجْلِكَ وَأَجْلِ أَصْحَابِكَ وَاللهِ لَوْ اور ان کی خوشنودی کا ذکر کیا ہے تو یہ بھی محض اللہ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ جل ذکرۀ کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا اور یہ بِهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ جو تم میری گھبراہٹ دیکھ رہے ہو تو یہ تمہاری خاطر أَرَاهُ۔ اور تمہارے ساتھیوں کی خاطر ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر میرے پاس زمین بھر سونا بھی ہو تو میں ضرور اللہ عز و جل کے عذاب سے فدیہ دے کر چھڑا لوں پیشتر اس کے کہ میں وہ عذاب دیکھوں۔ قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حماد بن زید نے کہا: ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ میں حضرت دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بِهَذَا۔ عمر کے پاس گیا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔ ٣٦٩٣ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ٣٦٩٣ : يوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُوْ أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عثمان بن بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ غیاث نے مجھے بتایا کہ ابو عثمان نہدی نے ہم سے عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بیان کیا کہ حضرت ابو موسیٰ ﷺ سے روایت الله