صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 182 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 182

صحیح البخاری جلد ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي عمال ابْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بن سہل بن حنیف نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ ابوسعید خدری سے روایت کی۔انہوں نے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: میں نے رسول اللہ لیا یہ کمی سے سنا۔آپ فرماتے تھے : میں سویا ہوا تھا۔میں نے لوگوں کو دیکھا کہ يَقُوْلُ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ میرے سامنے پیش کئے گئے ہیں اور انہوں نے عُرِضُوْا عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ فَمِنْهَا قمیصیں پہنی ہوئی ہیں تو اُن میں سے بعض کی مَا يَبْلُغُ اللَّدْيَ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُوْنَ قمیصیں چھاتیوں تک ہی پہنچتی ہیں۔اور ان میں ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ سے بعض اس کے نیچے تک۔اور عمر بھی میرے فَمِيْصَ اجْتَرَّهُ قَالُوْا فَمَا أَوَّلْتَهُ یا سامنے پیش کئے گئے انہوں نے قمیص پہنی ہوئی تھی جس کو وہ گھسیٹ رہے تھے۔صحابہ نے کہا: رَسُوْلَ اللهِ قَالَ الدِّينَ۔اطرافه ۷۰۰۹،۷۰۰۸،۲۳- آپ نے اس سے کیا مراد لی ہے؟ فرمایا: دین۔٣٦٩٢ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بنُ ٣۶٩٣: صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بن ابراہیم نے مجھے بتایا کہ ایوب نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَن کیا۔انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے ، انہوں نے الْمِسْوَرِ بن مَحْرَمَةَ قَالَ لَمَّا طُعِنَ حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت کی۔انہوں نے عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسِ کہا: جب حضرت عمرؓ کو زخمی کیا گیا، درد سے بیقرار ہونے لگے۔حضرت ابن عباس نے ان سے کہا جیسے وَكَأَنَّهُ يُجَزَعُهُ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَلَئِنْ کہ وہ ان کی بے قراری کو دور کرنے لگے ہیں۔كَانَ ذَاكَ لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُوْلَ اللهِ امیر المؤمنین ! اگر آپ کو یہ تکلیف ہے تو آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ رسول الله صلى ل ولم کی صحبت میں رہ چکے ہیں اور آپ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقْتَهُ وَهُوَ عَنْكَ رَاضِ نے نہایت عمدگی سے آپ کا ساتھ دیا۔پھر آپ ان ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ سے ایسی حالت میں جدا ہوئے کہ آنحضرت صلی اللہ یکم صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقْتَهُ وَهُوَ عَنْكَ رَاضِ آپ سے خوش تھے۔پھر آپ حضرت ابو بکر کے صحبت صَحَبَتَهُمْ فَأَحْسَنْتَ ساتھ رہے اور نہایت عمدگی سے ان کا ساتھ دیا۔صَحِبْتَ