صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 184
صحیح البخاری جلد كُنتُ ۱۸۴ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی ایم کے ساتھ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيْطَانِ الْمَدِينَةِ مدينہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھا، اتنے فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ میں ایک شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کیلئے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَحْ لَهُ کہا: بی ای ایم نے فرمایا: اس کیلئے دروازہ کھولو اور وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا هُوَ اس کو جنت کی بشارت دو۔میں نے اس کے لئے أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ دروازه کھولا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ابو بکر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ ہیں۔میں نے ان کو اس بات کی بشارت دی جو نبی جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ سلیم نے فرمائی تھی۔انہوں نے الحمد للہ کہا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَحْ لَهُ پھر ایک شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کیلئے وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا کیا ہی نئی ایم نے فرمایا: اس کے لئے دروازہ کھولو نبی هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ اور اس کو جنت کی بشارت دو۔میں نے دروازہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ کھولا تو دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر ہیں۔میں نے اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي افْتَحْ لَهُ ان کو وہ بات بتائی جو نبی صل اللہ ﷺ نے فرمائی۔انہوں نے الحمد للہ کہا۔پھر ایک شخص نے دروازہ کھولنے وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ کے لئے کہا۔آپ نے فرمایا: اس کے لئے دروازہ کھولو اور اس کو بھی جنت کی بشارت دو، باوجود صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ قَالَ اللهُ الْمُسْتَعَانُ۔ایک مصیبت کے جو اُسے پہنچے گی۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت عثمان ہیں۔میں نے ان کو وہ بات بتائی جو نبی صلی ال ولیم نے فرمائی۔انہوں نے بھی الحمد للہ کہا۔پھر کہا: مصیبت سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ ہی سے مدد طلب کی جاسکتی ہے۔اطرافه ۳۶۷۴ ۳۶۹۵، ۶۲۱۶، ۷۰۹۷، ۷۲۶۲ ٣٦٩٤ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ :۳۶۹۴ يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔