صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 7
صحيح البخاری جلدی ۶۱ - كتاب المناقب تشريح : يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنثى ۔۔۔ امام ابن حجر کے نزد یک احادیث صحیح بخاری کا یہ حصہ دراصل کتاب الأنبياء ہی سے متعلق ہے۔ بعض شارحین اور مصنف کتب الاطراف نے اس کا عنوان کتاب المناقب قائم کر کے اس کو کتاب الأنبیاء سے الگ مستقل کتاب قرار دیا ہے اور لکھا ہے : فَإِنَّهُ يَظْهَرُ مِنْ تَصَرُّفِهِ أَنَّهُ قَصَدَ بِهِ سِيَاقَ التَّرْجَمَةِ النَّبَوِيَّةِ بِأَن يُجْمَعَ فِيْهِ أُمُورُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَبْدَءِ إِلَى الْمُنْتَهَى ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۴۴) کہ امام بخاری کے اس تصرف سے ان کا مقصد ظاہر ہے کہ وہ ابتداء سے لے کر آخر تک نبوت کے بیان ہی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ امور کو بھی شامل کرتے ہیں۔ غرض صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں یہ حصہ مناقب سے معنون ہے اور کتاب الانبیاء میں شامل ہے۔ محدثین کی بعثت کے ذکر میں کتاب الانبیاء کے آخر میں ذکر آچکا ہے۔ نیز آپ وہ عالیشان نبی برحق ہیں جن کی نسبت پہلے انبیاء علیہم السلام کے صحیفے بھی شہادت دیتے ہیں اور آپؐ کی ذات سے پیوند پکڑنے والے مردان خدا بھی تا قیامت آپ کی صداقت پر شہادت دیتے چلے جائیں گے ۔ اس زمرے میں صحابہ کرام بھی شامل ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : : أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَّبِّهِ وَ يَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهِ كِتْبُ مُوسَى إِمَامًا وَ رَحْمَةً أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِه (هود: ۱۸) پس کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر (قائم) ہے اور جس کے پیچھے بھی اس کی طرف سے ایک گواہ آئے گا (جو اس کا فرمانبردار ہو گا) اور اس سے پہلے بھی موسیٰ کی کتاب ( آچکی ) ہے جو اس کی تائید کر رہی تھی اور جو اس کے کلام سے پہلے لوگوں کے لئے امام اور رحمت تھی۔ مَنَاقِب جمع ہے مَنْقَبَةٌ کی، جس کے معنے فضیلت اور خوبی کے ہیں۔ مَا عُرِفَ بِهِ الْإِنْسَانُ مِنَ الخِصَالِ الْحَمِيدَةِ وَالْأَخْلَاقِ الْجَمِيلَةِ - (المنجد فى اللغة - نقب ) یعنی جن قابل تعریف خصلتوں اور اچھے اخلاق سے انسان معروف ہو، انہیں مناقب کہتے ہیں۔ مناقب کا آغاز جس آیت کے حوالہ سے کیا گیا ہے۔ اس سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ فضیلت در حقیقت تقد تقویٰ سے متحقق ہوتی ہے ، اس کے بغیر نہیں۔ پوری آیت یہ ہے : یایھا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا) (النساء :(۲) اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اس کی جنس) سے (ہی) اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں میں سے بہت سے مرد اور عور تیں ( پیدا کر کے دنیا میں ) پھیلائے اور اللہ کا تقویٰ اس لئے بھی اختیار کرو کہ اس کے ذریعے سے تم آپس میں سوال کرتے ہو اور خصوصاً رشتہ داریوں کے معاملہ ) میں تقویٰ سے کام لو۔ اللہ تم پر یقینا نگر ان ہے۔ (ترجمہ از تفسیر صغیر)