صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 177
صحیح البخاری جلد 122 - کتاب فضائل أصحاب النبي ۶۲ فَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُوْلَ اللهِ سے متعجب ہوں جو میرے پاس تھیں۔جب انہوں ثُمَّ قَالَ عُمَرُ يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ نے آپ کی آواز سنی، جلدی سے پر دے میں چلی أَتَهَبْنَنِي وَلَاتَهَبْنَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ گئیں۔حضرت عمر نے کہا: یا رسول اللہ ! حالا نکہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ أَفَظ آپ زیادہ لائق ہیں کہ آپ سے جھینپیں۔پھر وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت عمر کہنے لگے : اری اپنی جانوں کی دشمنو! عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ کیا تم مجھ سے جھینپتی ہو اور رسول اللہ صل الی ام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيْهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ سے نہیں جھینپتیں۔وہ بولیں : ہاں۔آپ تو بڑے کھردرے اور سخت مزاج ہیں۔رسول اللہ صلی الل ونم وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجَّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ ایسے نہیں۔تو رسول اللہ صلی امام نے فرمایا: خطاب کے بیٹے سنو ! اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں فَجَّا غَيْرَ فَجَكَ۔اطرافه: ۶۰۸۵،۳۲۹۴ میری جان ہے۔شیطان جب کبھی بھی آپ سے راستے پر چلتے ہوئے ملا ہے تو ضرور ہی اس نے وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ لیا۔٣٦٨٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۶۸۴ محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ یحی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا (قطان) نے ہمیں بتایا، کہا: اسماعیل ( بن ابی خالد ) قَيْسٌ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا زِلْنَا أَعِزَّةً سے روایت ہے کہ قیس نے ہم سے بیان کیا، کہا: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) کہتے تھے : جب سے مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ۔طرفه: ۳۸۶۳۔حضرت عمر مسلمان ہوئے ہیں ہم عزت سے ہی رہے۔٣٦٨٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا :۳۶۸۵ عبد ان نے ہم سے بیان کیا۔عبد اللہ عَبْدُ اللهِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ عَن ( بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔عمر بن سعید نے ن أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ ابْنَ عَبَّاس ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے۔يَقُوْلُ وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيْرِهِ انہوں نے حضرت ابن عباس سے سنا۔وہ کہتے فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُوْنَ وَيُصَلُّوْنَ قَبْلَ تھے: حضرت عمر جنازے کے لئے رکھے گئے اور