صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 177 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 177

صحیح البخاری جلدی ۱۷۷ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صال فَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ يَا رَسُوْلَ اللهِ سے متعجب ہوں جو میرے پاس تھیں۔ جب انہوں ثُمَّ قَالَ عُمَرُ يَا عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ نے آپ کی آواز سنی، جلدی سے پر دے میں چلی أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ گئیں۔ حضرت عمر نے کہا: یا رسول اللہ ! حالانکہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ أَفَظُ آپ زیادہ لائق ہیں کہ آپ سے چھینیں ۔ پھر وَأَغْلَظُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت عمرؓ کہنے لگے : اری اپنی جانوں کی دشمنو! عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کیا تم مجھ سے چھینیتی ہو اور رسول اللہ صلی الیم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيْهَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ سے نہیں جھینپتیں۔ وہ بولیں : ہاں۔ آپ تو بڑے وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَكَ کھردرے اور سخت مزاج ہیں۔ رسول اللہ صلی علی یم الشَّيْطَانُ سَالِكًا فَجَّا قَطُّ إِلَّا سَلَكَ ایسے نہیں۔ تو رسول اللہ صلی ﷺ نے فرمایا: خطاب کے بیٹے سنو! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں فَبًّا غَيْرَ فَجِّكَ۔ اطرافه: ۶۰۸۵،۳۲۹۴ ہ میری جان ہے۔ شیطان جب بھی بھی آپ سے راستے پر چلتے ہوئے ملا ہے تو ضرور ہی اس نے وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ لیا۔ ٣٦٨٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۶۸۴ : محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ بچی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا (قطان) نے ہمیں بتایا، کہا: اسماعیل ( بن ابی خالد ) قَيْسٌ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ مَا زِلْنَا أَعِزَّةً سے روایت ہے کہ قیس نے ہم سے بیان کیا، کہا: مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ۔ طرفه: ۳۸۶۳۔ حضرت عبد الله ( بن مسعود) کہتے تھے : جب سے حضرت عمر مسلمان ہوئے ہیں ہم عزت سے ہی رہے۔ ٣٦٨٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا ۳۶۸۵ : عبد ان نے ہم سے بیان کیا۔ عبد اللہ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ عمر بن سعید نے ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے۔ يَقُوْلُ وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيْرِهِ انہوں نے حضرت ابن عباس سے سنا۔ وہ کہتے فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُوْنَ وَيُصَلُّوْنَ قَبْلَ تھے: حضرت عمرؓ جنازے کے لئے رکھے گئے اور