صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 178
صحیح البخاری جلد ۶۲ 12A کتاب فضائل أصحاب النبي ام أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيْهِمْ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا لوگ ان کے گرد کھڑے ہو گئے۔ان کے اُٹھانے رَجُلٌ آخِدٌ مَّنْكِبِي فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي سے پہلے دعا کرنے لگے۔پھر نماز جنازہ پڑھنے لگے طَالِبٍ فَتَرَحَمَ عَلَى عُمَرَ وَقَالَ مَا اور میں بھی ان میں موجود تھا تو ایک شخص نے میرا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى الله کندھا پکڑ کر چونکا دیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت علی بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ وَايْمُ اللهِ إِنْ كُنْتُ بن ابی طالب ہیں۔وہ حضرت عمرؓ کے لئے رحمت لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ کی دعا کرنے لگے اور کہا: آپ نے کوئی ایسا شخص وَحَسِبْتُ أَنِّي كَثِيرًا أَسْمَعُ النَّبِيَّ نہیں چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر مجھے پیارا ہو اس لحاظ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ ذَهَبْتُ سے کہ میں ان جیسے عمل کرتے اللہ سے ملوں۔أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنا بخدا میں یہی سمجھتا تھا کہ اللہ آپ کو بھی آپ کے وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَ ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا اور میں جانتا ہوں أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ۔طرفه: ۳۶۷۷۔کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت دفعہ میں یہ سنا کرتا تھا۔آپ فرمایا کرتے تھے : میں اور ابو بکر اور عمرہ گئے۔میں اور ابو بکر اور عمر داخل ہوئے۔میں اور ابو بکر اور عمر نکلے۔٣٦٨٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۳۶۸۶ مسد دنے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن يَزِيْدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيْدُ بْنُ أَبِي زُریع نے ہمیں بتایا۔سعید بن ابی عروبہ نے ہم عَرُوْبَةً وَقَالَ لِي خَلِيْفَةُ حَدَّثَنَا سے بیان کیا۔نیز خلیفہ بن خیاط ) نے مجھ سے کہا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ وَكَهْمَسُ بْنُ الْمِنْهَالِ که محمد بن سواء (سد وسی بصری ) اور کہمس بن قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيْدٌ عَنْ قَتَادَةَ منہال نے ہم سے بیان کیا۔ان دونوں نے کہا: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سعید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے ، قتادہ قَالَ صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت وَسَلَّمَ أُحُدًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی علیکم احد پر چڑھے اور وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ آپؐ کے ساتھ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور وَقَالَ اثْبُتْ أُحُدُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا حضرت عثمان تھے تو وہ ان کے سمیت ہلنے لگا۔تو