صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 174
صحیح البخاری جلدی ۱۷۴ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ کیا۔ وہ کہتے تھے: سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک بار ہم رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ اسی اثناء میں میں فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْر نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت ہے جو محل کے ایک طرف وضو فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ قَالُوا لِعُمَرَ فَذَكَرْتُ غَيْرَتَهُ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا فَبَكَى کر رہی ہے ۔ میں نے کہا : یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمر کا۔ تو مجھے عمر کی غیرت یاد عُمَرُ وَقَالَ أَعَلَيْكَ أَغَارُ يَا رَسُوْلَ اللهِ آئی اور میں پیٹھ موڑ کر چلا آیا۔ حضرت عمرؓ سن کر اطرافه: ۷۰۲۵۰۷۰۲۳،۵۲۲۷،۳۲۴۲ رو پڑے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا۔ ٣٦٨١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ ۳۶۸۱ : محمد بن صلت ابو جعفر کوفی نے ہم سے أَبُو جَعْفَرِ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ بیان کیا کہ (عبد اللہ ) بن مبارک نے ہمیں بتایا۔ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي انہوں نے یونس سے، یونس نے زہری سے حَمْزَةُ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ روایت کی۔ انہوں نے کہا: حمزہ نے اپنے باپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی اثناء میں کہ میں نَائِمٌ شَرِبْتُ يَعْنِي اللَّبَنَ حَتَّى أَنْظُرَ سویا ہوا تھا ، میں نے پیا یعنی دودھ ، اتنا کہ میں إِلَى الرِّي يَجْرِي فِي ظُفْرِي أَوْ فِي طراوت کو اپنے ناخن یا فرمایا اپنے ناخنوں میں أَظْفَارِي ثُمَّ نَاوَلْتُ عُمَرَ قَالُوا فَمَا سرایت کرتے دیکھتا تھا۔ پھر میں نے عمر کو دیا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ قَالَ الْعِلْمَ۔ تو صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ نے اس سے کیا مراد لی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: علم۔ اطرافه ۸۲، ۷۰۰۶، ۷۰۰۷، ۷۰۲۷، ۷۰۳۲