صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 173
صحیح البخاری جلدی ۱۷۳ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صلي روایت نمبر ۳۶۷۷ سے بھی اسی امر کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایسے بے نفس انسان تھے کہ کسی وقت میں بھی انہوں نے اپنے آپ کو خلافت کا اہل نہیں سمجھا۔ حتی کہ حضرت عمرؓ کی وفات پر بھی دوسروں ہی سے متعلق سمجھتے تھے کہ وہ ان کے ہم پلہ ہیں۔ ایسے پاکیزہ نفس سے متعلق بہت سی روایات تراشیدہ ہیں جن کی تردید مندرجہ روایات میں مقصود ہے۔ باب ٦ مَنَاقِبُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَبِي حَفْصِ الْقُرَشِيِّ الْعَدَوِيِّ الله حضرت عمر بن خطاب ابو حفص قرشی عدوی رضی اللہ عنہ کے اوصاف ٣٦٧٩ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ۳۶۷۹ : حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُوْنِ عبد العزيز بن ماجشون نے ہمیں بتایا۔ (کہا : ) محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ بن منکدر نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا۔ انہوں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُنِي نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَأَةِ اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت ؟ جنت میں داخل ہوا أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ ہوں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ رمیصاء ابو طلحہ کی بیوی وہاں ہے اور میں نے پاؤں کی آہٹ سنی۔ میں مَنْ هَذَا فَقَالَ هَذَا بِلَالٌ وَرَأَيْتُ قَصْرًا نے کہا: یہ کون؟ تو کہا: ؟ تو کہا: یہ بلال ہے۔ اور میں نے بِفِنَائِهِ جَارِيَةً فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالَ ایک محل دیکھا جس کے آنگن میں ایک لڑکی لِعُمَرَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَأَنْظُرَ إِلَيْهِ ہے۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا: عمر فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَقَالَ عُمَرُ بِأَبِي کا۔ میں نے اس محل میں داخل ہونا چاہا کہ اس کو وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَيْكَ أَغَارُ۔ دیکھوں تو تمہاری غیرت مجھے یاد آئی۔ حضرت عمر اطرافه: ۵۲۲۶، ۷۰۲۴ نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ کیا میں آپ پر بھی غیرت کھاؤں گا۔ ٣٦٨٠: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي ۳۶۸۰: سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عقیل نے