صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 172 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 172

صحیح البخاری جلد 127 ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کی ایک عید کا نام تھا۔اس دن وہ لہو و لعب اور شرب و نوش میں ایسے منہمک ہو جاتے کہ وہ عیش و طرب میں اپنے ریوڑ کا خیال رکھنا بھول جاتے اور درندے بھیڑ بکری لے جاتے۔کہتے ہیں : سبغت الرَّجُلَ : ذَعَرْتُه۔میں نے اسے خوف زدہ کر دیا۔أسبغته : أَهملته- میں نے اسے (مہمل) نظر انداز کر دیا۔اصمعی ادیب نے يَوْمُ السَّبع کا مترادف يَوْمُ الفَزع بتایا ہے یعنی گھبراہٹ اور پریشانی کا روز۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۳۵، ۳۶) اس سے مذکورہ بالا مفہوم ہی کی تائید ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تمثیل سے مراد ایام فتن ہیں۔فرمایا: مجھے ، ابو بکر اور عمر کو اس پیشگوئی کے سچا ہونے پر یقین ہے۔اس روایت سے ان دونوں کی ایمانی حالت اور فضیلت ظاہر ہوتی ہے اور یہ فضیلت اسی ترتیب میں متحقق ہے جو آپ کے بیان میں ملحوظ ہے۔روایت نمبر ۳۶۶۶ کی تشریح کے لئے کتاب الجہاد باب ۳۷ روایت نمبر ۲۸۴۱ نیز کتاب الصوم باب ۴ روایت نمبر ۱۸۹۷ دیکھئے۔جہاں جنت کے دروازوں کا ذکر ہے۔روایت نمبر ۳۶۶۸ میں حضرت عمر نے اقرار کیا کہ حضرت ابو بکر نہی ان سے بہتر ہیں اور صحابہ کرام نے ان کی بیعت پر اتفاق کر کے اس امر کی تصدیق کر دی۔روایت نمبر ۱ ۳۶۷ محمد بن حنفیہ کی ہے۔یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ان کی بیوی حنفیہ کے بطن سے تھے۔یہ روایت دار قطنی وغیرہ نے بھی نقل کی ہے اور اس سے اہل بیت کی شہادت کا ذکر مقصود ہے جس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت ابو بکر پر فضیلت کی نفی ثابت ہے۔بعض روایتیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں منقول ہیں جو غیر مستند ہیں۔واقعات جس امر کی تصدیق کر دیں اس میں دو قول نہیں ہو سکتے۔روایت نمبر ۳۶۷۲ میں بیان واقعہ کی تفصیل کے لئے کتاب التیمم روایت نمبر ۳۳۴، ۳۳۶ دیکھئے۔فَأَنزَلَ اللهُ آيَةَ التَّيم : شان نزول سے ظاہر ہے کہ اس حکم کا تعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہار کھوئے جانے والے واقعہ سے ہے جو غزوہ بنی مصطلق سے واپسی کے اثناء میں پیش آیا۔یہ غزوہ شعبان ۵ھ میں ہو ا تھا۔(دیکھئے کتاب التیمم روایت نمبر ۳۳۴ نیز کتاب المغازی تشریح باب (۳۲) روایت نمبر ۳۶۷۳ کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو بعض صحابہ کر اٹم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔روایت نمبر ۳۶۷۴ سے جمہور کے مذہب کی تائید ہوتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہی بلحاظ فضیلت ترتیب میں تیسرے نمبر پر ہیں۔( فتح الباری جزء صفحہ ۴۳) وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ: بلوے سے مراد اُن کے خلاف بعض مصریوں کی بغاوت ہے جو بالآخر حضرت عثمان کی شہادت پر منتج ہوئی جو تاریخ اسلامی میں ایک نہایت المناک اور دلخراش واقعہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ ہم کو عالم الغیب کی طرف سے جو علم غیب عطا ہوا تھا۔اس کی دو مثالیں روایت نمبر ۳۶۷۵، ۳۶۷۶ میں وارد ہوئی ہیں۔حضرت عمرؓ کی فتوحات نے عربوں کو مالا مال کر دیا تھا جو تاریخ اسلام کا درخشندہ واقعہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا رویا کی تعبیر ہے۔