صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 171
۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صحیح البخاری جلد نہیں سمجھتے تھے۔جمہور اہل سنت کی یہی رائے ہے۔امام مالک وغیرہ کے فتویٰ سے غالباً یہ مقصود ہے کہ ہر ایک اپنی اپنی خوبیوں میں یکتا تھا اور اپنی فضیلت میں ممتاز۔اس لئے یہ افضلیت کی بحث مناسب نہیں بلکہ فتنہ کا باعث ہو گئی ہے۔یہ نقطہ نظر بھی ایک لحاظ سے معقول ہے مگر عملی جہت سے بعض مشکلات رکھتا ہے کیونکہ انتخاب کے وقت اہلیت کا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔ان ابواب میں امام بخاری نے جو مستند روایتیں نقل کی ہیں ان سے ظاہر ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دوسروں سے ممتاز فرمایا ہو وہ بہر حال افضل ہو گا۔غرض ابواب فضائل کا پس منظر اختصار سے بیان کر دیا گیا ہے۔فضیلت کے تعلق میں یہ امر نہیں بھولنا چاہیے کہ حالات کے موازنہ ہی سے کسی کی فضیلت کا صحیح علم ہوتا ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دقیق نظر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع ہی سے شناخت کر لیا تھا جبکہ دوسرے اس شناخت سے اوائل میں محروم رہے اور اس ابتدائی دور میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نظر چوکنے لگی اور غار میں تعاقب کرنے والے دشمنوں کی آہٹ پاکر وہ خوف زدہ ہوئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ! اب ہم پکڑے گئے۔تو آپ نے فرمایا : نہیں، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔اس بصیرت، یقین کامل کے مقابلے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی نظر ماند تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عالی مرتبہ ما زاغ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى کی مصداق۔یعنی آپ کی آنکھ پوری صحت سے دیکھنے والی ثابت ہوئی۔وہ قطعا نہیں چو کی اور ذرہ بھر بھی اِدھر اُدھر نہیں ہوئی۔واقعات کی بنا پر ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ اپنی بصیرت و بینائی میں حضرت ابو بکر سے بڑھ کر تھے۔غرض افضلیت کا انکار واقعات سے عمداً چشم پوشی کرنا ہے۔ابواب فضائل صحابہ کرام میں امام بخاری واقعات نقل کر کے یہی بات ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں۔روایات مندرجہ ابواب میں سے بعض روایات قابل وضاحت ہیں۔ان روایات میں سے روایت نمبر ۳۶۷۶ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک رؤیا کا ذکر ہے جس کی تعبیر واقعات نے ظاہر کر دی ہے کہ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں گے اور وہ اپنے عہد خلافت میں ایسے جو انمردوں کی طرح خدمت انجام دیں گے کہ ان سا کوئی جوانمرد نہ ہو گا۔يَوْمُ السّبع: روایت نمبر ۳۶۶۳ میں يَوْمُ السَّبُعِ کا ذکر ہے اور الشبع کے لفظی معنی ہیں: درندہ۔اور یہ شیر اور چیتے پر اطلاق پاتا ہے۔امام ابن حجر نے داؤدی کے حوالہ سے ایسے ایام فتنہ وفساد مراد لئے ہیں جن میں انسان حواس باختہ ہو جاتا ہے اور اسے اپنے گھر بار اور مال و منال کی خبر گیری اور سنبھالنے کا ہوش تک نہیں رہتا۔مذکورہ بالا مجازی پیرایہ بیان میں شدید فتنوں کے برپا ہونے کی خبر دی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت میں جو کمزور ہے يَوْمُ الْقِيَامَة کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں جس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ قیامت کے روز ریوڑ ، چرواہے اور بھیڑیے کا کیا تعلق ؟ يَوْمُ السَّبع سے متعلق یہ بھی کہا گیا