صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 170
صحیح البخاری جلدی ۱۷۰ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم الله تشريح : مَنَاقِبُ الْمُهَاجِرِينَ وَفَضْلُهُمْ مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ : باب نمبر ۵۳۲ و عنه تا کے تحت ۲۶ روایات ہیں جو مختلف واقعات پر مشتمل ہیں، جن سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت واضح طور پر پائی جاتی ہے۔ باب ۲ کی روایت نمبر ۳۶۵۲ میں حضرت ابو بکر کی فضیلت کا ذکر ہے۔ صحابہ کرائم میں سے حضرت ابو بکر کا مقام بلحاظ منقبت و فضیلت اول نمبر پر ہے اور جو فضیلت آپ کی باب ۲ کی روایات میں وارد وارد ہوئی ہوئی ہے اس پر مزید لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ دونوں ابواب کی روایات اور اللہ اور اور ) اس کے رسول کی شہادت اس بارے میں واضح ہیں اور جو نصرت الہی ایام خلافت میں آپ کے شامل حال رہی وہ واقعاتی شہادت ت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے تائید یافتہ تھے۔ جس آنکھ نے نورِ نبوت آ آنحضرت صلی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی میں بالکل ابتدائی زمانہ میں دیکھ لیا تھا بحالیکہ دوسروں کے لئے سراسر اندھیرا تھا، اس کی نظر ثاقب کا کوئی آنکھ مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اسی طرح وہ قلب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز تھا جس کی وجہ سے آپ خلیل کہلانے کے مستحق ٹھہرے، اس سا اور کوئی قلب نہ تھا۔ کیا ہی سچا قول ہے جو ان کی مدح میں ایک صادق بیان کی طرف سے کہا گیا ہے: وَمَا إِنْ أَرَى وَاللهِ فِي الصَّحْبِ كُلِّهِمْ كَمِثْلِ أَبِي بَكْرٍ بِقَلْبٍ مُعَطَّرٍ تَصَدَّى لِنَصْرِ الدِّينِ فِي وَقْتِ عُسْرَةٍ تَبَدَّى بِغَارِ بِالرَّسُوْلِ الْمُؤَخَّرِ سر الخلافہ - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۸۷) بخدا میں تمام صحابہ کرام میں حضرت ابو بکر جیسا کوئی نہیں دیکھتا جس کا دل ان کے دل کی طرح معطر ہو۔ تنگی کے وقت میں وہ دین کی نصرت کے لئے کمر بستہ ہوئے۔ غار میں اس رسول کے ساتھ پہلے پہل گئے جس کی پیٹھ مضبوط کی گئی ہے۔ تنگی میں اور نہایت نازک وقت کی مدد ہی در حقیقت قابل قدر ہوتی ہے جو مابعد کی تمام مردوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ شیعہ صاحبان حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سب سے افضل قرار دیتے ہیں اور ایک فرقہ جو عثمانیہ کہلاتا ہے وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی افضلیت کا معتقد ہے اور اس عقیدے میں غلو سے کام لیتا ہے جیسے شیعہ حضرت علی کی نسبت۔ اور امام مالک نے اپنی کتاب مدونہ میں فتویٰ دیا ہے : لَا يَفْضِلُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ ۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے پر فضیلت نہیں رکھتا۔ یحی بن قطان اور ابن حزم کی بھی یہی رائے ہے۔ (فتح الباری، باب فَضْلُ أبي بكر بعد النبي صلى اللہ علیہ وسلم ، جزءے صفحہ ۲۱) بابے کی روایت نمبر ۷ ۳۶۹ میں بسند نافع حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو افضل اور ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو علی الترتیب افضل سمجھتے تھے اور ان کے بعد صحابہ رضوان اللہ علیہم میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے سے افضل