صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 6
صحیح البخاری جلدی ۶۱ - كتاب المناقب مِنْ هَاهُنَا جَاءَتِ الْفِتَنُ نَحْوَ اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے الْمَشْرِقِ وَالْجَفَاءُ وَغِلَظُ الْقُلُوْبِ فِي تھے۔ آپ نے فرمایا: اس طرف سے فتنے اٹھیں الْفَدَّادِيْنَ أَهْلِ الْوَبَرِ عِنْدَ أُصُولِ گے یعنی مشرق کی طرف سے اور اکھڑ پن اور دلوں أَذْنَابِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ فِي رَبِيعَةَ کی سختی ان اجڑ زمینداروں میں ہے جو اون پوش ہیں، وہ جو اونٹوں اور گائیوں کی دموں سے لگے وَمُضَرَ ۔ اطرافه: ۳۳۰۲، ۴۳۸۷، ۵۳۰۳ رہتے ہیں یعنی ربیعہ اور مصر کے لوگوں میں۔ ٣٤٩٩: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۴۹۹ ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ مجھے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ الْفَخْرُ وَالْخَيَلَاءُ فِي الْفَدَّادِيْنَ أَهْل آپ فرماتے تھے: شیخی بگھارنا اور اکھٹر پین ان الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ اجد زمینداروں میں ہے جو اون پوش ہیں اور دھیما پن (نرمی) بکریوں والوں میں ہے اور وَالْإِيْمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سُمِّيَتِ الْيَمَنَ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: یمن کا نام اس لِأَنَّهَا عَنْ يَمِينِ الْكَعْبَةِ وَالشَّأْمَ عَنْ لئے یمن رکھا گیا ہے کہ وہ کعبہ کے دائیں طرف يَسَارِ الْكَعْبَةِ وَالْمَشْأَمَةُ الْمَيْسَرَةُ ہے اور شام کا نام اس لئے شام رکھا گیا ہے کہ وہ وَالْيَدُ الْيُسْرَى الشَّؤْمَى وَالْجَانِبُ کعبہ کے بائیں طرف ہے۔ اور مشتمة کے معنی الْأَيْسَرُ الْأَشْأَمُ۔ ہیں بائیں جانب اور بایاں ہاتھ بھی الشومی کہلاتا ہے۔ اسی طرح بائیں جانب الا شام کہلاتی ہے۔ اطرافه: ۳۳۰۱، ۴۳۸۸، ۴۳۸۹، ۴۳۹۰