صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 168 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 168

صحیح البخاری جلدی ۱۶۸ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صلي لَهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگذر أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا کرے گا۔ پھر خطاب کے بیٹے نے ابو بکر کے ہاتھ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ سے وہ ڈول لیا اور وہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا چرسا فَنَزَعَ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنِ ہو گیا۔ میں نے لوگوں میں ایسا شہ زور نہیں دیکھا جو قَالَ وَهْبُ الْعَطَنُ مَبْرَكُ الْإِبِلِ يَقُولُ ان کی طرح حیرت انگیز کام کرتا ہو۔ انہوں نے اتنا حَتَّى رَوِيَتِ الْإِبِلُ فَأَنَاخَتْ۔ پانی نکالا کہ لوگ سیر ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں میں جا بیٹھے۔ وہب نے کہا: عطن کے معنی اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کے ہوتے ہیں اور ضَرَبَ النَّاسُ بعطن کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کے اونٹ سیر ہو کر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ اطرافه: ۳۶۳۳، ۷۰۱۹،۳۶۸۲، ۷۰۲۰ ٣٦٧٧: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ۳۶۷۷ : ولید بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عُمَرُ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا کہ عمر بن سعید بن بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَكِّيُّ الى حسین مکی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ابن ابی ملیکہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنِّي لَوَاقِفٌ فِي میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جنہوں نے حضرت عمر قَوْمٍ فَدَعَوُا اللَّهَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَدْ وُضِعَ عَلَى سَرِيْرِهِ إِذَا رَجُلٌ مِّنْ گیا۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص نے خَلْفِي قَدْ وَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى مَنْكِبِي میرے پیچھے سے آکر اپنی کہنی میرے کندھے پر يَقُوْلُ رَحِمَكَ اللَّهُ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو رکھ دی۔ کہنے لگا: اللہ تم پر رحم کرے۔ مجھے تو أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ لِأَنِّي یہی امید تھی کہ اللہ تمہیں بھی تمہارے دونوں كَثِيرًا مَّا كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُوْلَ اللهِ ساتھیوں کے ساتھ ہی دفن کرے گا کیونکہ میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ كُنْتُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے بہت بن خطاب کے لئے دعا کی اور انہیں تختہ پر رکھ دیا