صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 167 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 167

صحیح البخاری جلد ۱۶۷ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُ مِنَ الشَّقِ آپ کو پہنچے گی۔وہ اندر آئے اور دیکھا کہ منڈیر کا الْآخَرِ قَالَ شَرِيْكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَ ایک کنارہ بھر گیا ہے تو وہ آپ کے سامنے دوسرے سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَوَّلْتُهَا قُبُوْرَهُمْ۔کنارے پر بیٹھ گئے۔شریک بن عبد اللہ کہتے تھے : سعید بن مسیب نے کہا: میں نے اس سے یہ سمجھا کہ ان کی قبریں بھی اسی ترتیب سے ہوں گی۔اطرافه: ۳۶۹۳، ۶۲۲۶،۳۶۹۵، ۷۲۶۲،۷۰۹۷ ٣٦٧٥: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ :۳۶۷۵ محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ یحی بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سَعِيْدٍ عَنْ (قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید سے، قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ سعید نے قتادہ سے روایت کی کہ حضرت انس عَنْهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ صلى اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَقَالَ اثْبُتْ حضرت عثمان اُحد پر چڑھے تو وہ ان کے سمیت أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ وَصِدِيقٌ ہلنے لگا۔آپ نے فرمایا: احد ٹھہر جا۔تم پر ایک نبی ہے اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔وَشَهِيدَانِ اطرافه: ۳۶۸۶، ۳۶۹۹۔٣٦٧٦: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ :۳۶۷۶ احمد بن سعید ابو عبد اللہ نے مجھ سے بیان : سَعِيْدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا وَهُبُ بْنُ کیا کہ وہب بن جریر نے ہمیں بتایا کہ صحر نے ہم جَرِيرٍ حَدَّثَنَا صَحْرٌ عَنْ نَّافِعِ أَنَّ سے بیان کیا۔نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی لی ہم نے قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنوئیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرِ أَنْزِعُ پرکھڑا ہو کر اس سے پانی نکال رہا ہوں۔اسی اثنا میں مِنْهَا جَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَخَذَ ابوبکر اور عمر میرے پاس آئے تو ابو بکر نے وہ ڈول أَبُو بَكْرِ الدَّلْوَ فَنَزَعَ ذَنُوْبًا أَوْ لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچ کر نکالے اور ذَنُوْبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی اور اللہ ان کی رض