صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 166 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 166

صحیح البخاری جلدی ١۶۶ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم إِنْ يُرِدِ اللهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يُرِيدُ أَخَاهُ آئے گا۔ اس سے ان کی مراد اپنے بھائی سے تھی۔ يَأْتِ بِهِ فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ میں نے کیا دیکھا کہ کوئی آدمی دروازے کو ہلا رہا فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ہے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ کہا: عمر بن خطاب۔ فَقُلْتُ عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى میں نے کہا: ذرا ٹھہر جائیں۔ پھر میں رسول اللہ صلی علی ام رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاس آیا اور آپ کو السلام علیکم کہا اور میں نے فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ بْنُ کہا: یہ حضرت عمر بن خطاب نہیں خطاب نہیں جو اندر آنے کی الْخَطَّابِ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَّهُ وَبَشِّرْهُ اجازت چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو۔ میں آیا، میں نے بِالْجَنَّةِ فَجِئْتُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَبَشِّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: اندر آئیں اور رسول الله اللہ صلی امام نے آپ کو بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفْ عَنْ جنت کی بشارت دی ہے۔ وہ اندر آئے اور منڈیر پر رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ آپ کی بائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنوئیں میں لڑکا دیئے۔ پھر يَسَارِهِ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ میں لوٹ آیا اور آکر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: اگر اللہ فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ نے فلاں کی بہتری چاہی تو اس کو لے آئے گا۔ خَيْرًا يَأْتِ بِهِ فَجَاءَ إِنْسَانٌ يُحَرِّكُ اتنے میں ایک آدمی آیا۔ دروازے کو ہلانے لگا۔ علوم الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُثْمَانُ میں نے کہا: یہ کون ہے ؟ کہا: عثمان بن عفان۔ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ عَلَى رِسْلِكَ فَجِئْتُ میں نے کہا: ذرا ٹھہریں ریں اور میں رسول اللہ صلی اللی سیم إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاس آیا اور آپؐ کو خبر دی۔ آپؐ نے فرمایا: فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ائْذَنْ لَّهُ وَبَشِّرْهُ ان کو اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو، بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ فَجِئْتُهُ با وجود ایک بڑی مصیبت کے جو انہیں پہنچے گی۔ فَقُلْتُ لَهُ ادْخُلْ وَبَشِّرَكَ رَسُولُ اللهِ میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا: اندر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ عَلَى آئیں اور رسول اللہ صلی علیم نے آپ کو جنت کی بَلْوَى تُصِيبُكَ فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ بشارت دی ہے ، باوجود ایک بڑی مصیبت کے جو