صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 165 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 165

صحيح البخاری جلدی ۱۶۵ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم الْبَابِ وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّى قَضَى ڈالیوں کا تھا۔ جب رسول اللہ صلی علی ایم حاجت سے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فارغ ہوئے۔ آپؐ نے وضو کیا اور میں اُٹھ کر آپ حَاجَتَهُ فَتَوَضَّأَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ کی طرف گیا تو کیا دیکھا آپ ارلیس کنوئیں کی منڈیر جَالِسٌ عَلَى بِئْرِ أَرِيْسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَهَا پر بیٹھے ہیں اور پنڈلیوں سے کپڑا اُٹھایا ہوا ہے۔ وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي آپ اپنی دونوں ٹانگیں کنوئیں میں لٹکائے ہوئے الْبِئْرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ تھے۔ میں نے آپ کو السلام علیکم کہا۔ پھر لوٹ آیا فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ فَقُلْتُ لَأَكُونَنَّ اور اگر دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: آج میں رسول اللہ صلی علیہم کا دربان بنوں گا۔ اتنے میں حضرت بَوَّابَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوبکر آئے اور انہوں نے دروازے کو دھکیلا۔ میں الْيَوْمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَدَفَعَ الْبَابَ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابو بکر فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ میں نے کہا: ذرا ٹھہر جائیں۔ پھر میں نے جا کر کہا: عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلْتُ يَا صا الله يسلم یا رسول اللہ ! یہ حضرت ابو بکر نہیں جو اندر آنے کی رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ اجازت چاہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں اجازت فَقَالَ ائْذَنْ لَّهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَأَقْبَلْتُ دو اور ان کو جنت کی بشارت دو۔ میں نے آکر حَتَّى قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ ادْخُلْ وَرَسُوْلُ حضرت ابوبکر سے کہا: اندر آجائیں اور رسول اللہ ص سی حضرت اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ على عالم آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔ بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ ابوبکر اندر آئے اور رسول اللہ صلی الم کی دائیں طرف عَنْ يَمِينِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ آپؐ کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور انہوں نے بھی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِ وَدَلَّى اپنی ٹانگیں کنوئیں میں لڑکا دیں جیسا کہ نبی صلی ہم نے صا الله اللہ رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ کیا تھا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اُٹھالیا۔ پھر میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ واپس آیا اور بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی کو چھوڑ آیا سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ وَقَدْ تھا کہ وضو کر کے مجھ سے آملیں۔ میں نے دل میں تَرَكْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقْنِي فَقُلْتُ کہا کہ اگر اللہ فلاں کی بہتری چاہے گا اس کو لے