صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 165
صحیح البخاری جلد ۱۶۵ - کتاب فضائل أصحاب النبي ۶۲- عَلَى رِضْلِكَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلْتُ يَا الْبَابِ وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّى قَضَى ڈالیوں کا تھا۔جب رسول اللہ صلی لا علم حاجت - رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فارغ ہوئے۔آپ نے وضو کیا اور میں اُٹھ کر آپ حَاجَتَهُ فَتَوَضَّأَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ کی طرف گیا تو کیا دیکھا آپ ارلیس کنوئیں کی منڈیر جَالِسٌ عَلَى بِئْرِ أَرِيْسِ وَتَوَسَطَ قُفَّهَا پر بیٹھے ہیں اور پنڈلیوں سے کپڑا اُٹھایا ہوا ہے۔وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي آپ اپنی دونوں ٹانگیں کنوئیں میں لٹکائے ہوئے الْبِتْرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ تھے۔میں نے آپ کو السلام علیکم کہا۔پھر لوٹ آیا فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ فَقُلْتُ لَأَكُونَنَّ اور آکر دروازے پر بیٹھ گیا۔میں نے کہا: آج میں بَوَّابَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسو اللہ کی ملی نیم کا در بان بنوں گا۔اتنے میں حضرت الْيَوْمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَدَفَعَ الْبَابَ ابوبکر آئے اور انہوں نے دروازے کو دھکیلا۔میں فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ نے پوچھا: یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا: ابو بکر میں نے کہا: ذرا ٹھہر جائیں۔پھر میں نے جاکر کہا: یا رسول اللہ ! یہ حضرت ابوبکر نہیں جو اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو۔میں نے آکر حَتَّى قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ ادْخُلْ وَرَسُوْلُ حضرت ابو بکر سے کہا: اندر آجائیں اور رسول اللہ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ عَل لی ہم آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔حضرت بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ ابوبکر اندر آئے اور رسول اللہ صلی علیم کی دائیں طرف عَنْ يَمِيْنِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ آپؐ کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور انہوں نے بھی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِ وَدَلَّى اپنی ٹانگیں کنوئیں میں لٹکا دیں جیسا کہ نبی صلی اللہ ہم نے رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ کیا تھا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اُٹھا لیا۔پھر میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَشَفَ عَنْ واپس آیا اور بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی کو چھوڑ آیا سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ وَقَدْ تھا کہ وضو کر کے مجھ سے آملیں۔میں نے دل میں تَرَكْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي فَقُلْتُ کہا کہ اگر اللہ فلاں کی بہتری چاہے گا اس کو لے رَسُوْلَ اللهِ هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَّهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَأَقْبَلْتُ