صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 163
صحیح البخاری جلدی ۱۶۳ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم الله أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ أَقَامَتْ حضرت عائشہ نے کیا کیا ؟ رسول اللہ صلی الہ علم کو می اور بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپؐ کے ساتھ لوگوں کو بھی ٹھہرا رکھا ہے بحالیکہ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ وہ پانی کے قریب نہیں اور نہ پانی ان کے ساتھ مَعَهُمْ مَاءٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُوْلُ اللَّهِ ہے۔ حضرت ابو بکر یہ سن کر آئے اور اس وقت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعَ رَأْسَهُ رسول الله صل الله عليه علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رکھے سوئے ہوئے تھے۔ اور کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو روک رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رکھا ہے بحالیکہ وہ کہیں پانی کے قریب نہیں اور وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ نہ پانی نہ پانی ان کے ساتھ ہے۔ حضرت عا عائشہ کہتی مَعَهُمْ مَّاءٌ قَالَتْ فَعَاتَبَنِي وَقَالَ مَا تھیں : حضرت ابو بکرؓ نے مجھ پر غصہ کا اظہار کیا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُوْلَ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي اور جو اللہ نے کہلانا چاہا انہوں نے کہا، اور وہ میری بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ کوکھ میں اپنے ہاتھ سے کونچ مارنے لگے۔ میری التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى ران پر رسول اللہ صلی علیم سوئے ہوئے تھے۔ مجھے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَنَامَ حرکت کرنے سے صرف یہی بات روکتی تھی کہ رَسُوْلُ اللهِ لا حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى رسول اللہ صلی اللہ میری ران پر آرام کر رہے غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ تھے۔ رسول اللہ صلی علیم سوئے رہے۔ آخر صبح جو فَتَيَتَمُوا (النساء: ٤٤) فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ ہوئی تو آپ کے پاس پانی نہ تھا تو پھر اللہ نے تیم کا حکم نازل فرمایا اور لوگوں نے تم کیا۔ اس پر صا الْحُضَيْرِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ حضرت اسید بن حضیر نے کہا: ابوبکر کے خاندان! أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَبَعَثْنَا یہ تمہاری پہلی برکت نہیں۔ پھر حضرت عائشہ الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا کہتی تھیں: ہم نے اس اونٹ کو اُٹھایا جس پر میں الْعِقْدَ تَحْتَهُ۔ سوار تھی تو ہم نے اس بار کو اس کے نیچے پایا۔ اطرافه: ۳۳۴، ۳۳۶، ۳۷۷۳، ۴۵۸۳، ۴۶۰۸۰۴۶۰۷، ۶۸۴۵۰۶۸۴۴۰۵۸۸۲،۵۲۵۰،۵۱۶۴ ٣٦٧٣ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۳۶۷۳ : آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا