صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 162 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 162

صحیح البخاری جلد - کتاب فضائل أصحاب النبي۔٣٦٧١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ٣٦٧١: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔جامع بن ابی راشد نے ہم أَبِي رَاشِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى عَنْ سے بیان کیا کہ ابو یعلی نے ہمیں بتایا۔محمد بن مُّحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ (١) قَالَ قُلْتُ حنفیہ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: میں نے لِأَبِي أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُوْلِ اللهِ اپنے باپ (حضرت علی) سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سے کون بہتر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت ابو بکر میں نے کہا: قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ عُمَرُ وَخَشِيْتُ پھر کون؟ انہوں نے کہا: حضرت عمر۔اور میں ڈرا أَنْ يَقُولَ عُثْمَانُ قُلْتُ ثُمَّ أَنْتَ قَالَ کہ کہیں یہ نہ کہ دیویں کہ حضرت عثمان۔میں نے مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ۔کہا: پھر آپ؟ انہوں نے کہا: میں تو عام مسلمانوں میں سے ایک شخص ہوں۔٣٦٧٢ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۳۶۷۲ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا۔عَنْ مَّالِكِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَن انہوں نے مالک سے ، مالک نے عبد الرحمن بن الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ قاسم سے ، عبد الرحمن نے اپنے باپ سے ، ان اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رَضِيَ روایت کی۔وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عليه وسلم کے ساتھ آپ کے سفروں میں سے کسی فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا سفر میں ہم نکلے۔جب ہم بیداء یاذات الجیش میں بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ پہنچے تو میرا ایک بار ٹوٹ کر گر گیا اور رسول اللہ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ صلى اللہ علیہ وسلم اس کو تلاش کرنے کے لئے ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ اور وہ کسی پانی کے قریب نہیں تھے اور نہ ہی النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوْا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ پانی ان کے ساتھ تھا تو لوگ حضرت ابو بکرؓ کے مَعَهُمْ مَاءً فَأَتَى النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ فَقَالُوْا پاس آئے اور کہنے لگے: کیا آپ نہیں دیکھتے کہ 1) یہ حضرت علی کے بیٹے ہیں جو ان کی بیوی حنفیہ کے بطن سے تھے۔