صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 152
صحیح البخاری جلدی ۱۵۲ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوہاب نے ایوب عَنْ أَيُّوبَ مِثْلَهُ۔ اطرافه: ۴۶۷، ۶۷۳۸۳۶۵۶ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں ایسا ہی بتایا۔ ٣٦٥٨ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۳۶۵۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ا نے ایوب سے، عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَتَبَ ایوب نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی۔ أَهْلُ الْكُوفَةِ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي انہوں نے کہا: کوفہ والوں نے (حضرت عبداللہ ) الْجَدِّ فَقَالَ أَمَّا الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ بن زبیر کو دادا ( کی میراث ) کے متعلق لکھا۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِدا انہوں نے جواب دیا: وہ شخص جس کے متعلق مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا لَا تُخَذْتُهُ أَنْزَلَهُ رسول الله على السلام نے یہ ام نے یہ فرمایا کہ اگر میں نے اس أَبًا يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ۔ امت میں سے کسی کو جانی دوست بنانا ہوتا تو میں اس کو بناتا، اُس شخص نے دادا کو بمنزلہ باپ قرار دیا ہے۔ اس سے مراد ان کی حضرت ابو بکر تھی۔ ٣٦٥٩ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ وَمُحَمَّدُ :۳۶۵۹ حمیدی اور محمد بن عبد اللہ نے ہم سے بْنُ عُبَدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے باپ سے ، ان بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَنَتِ امْرَأَةَ کے باپ نے محمد بن جبیر بن ظلم مطعم سے ، محمد نے اپنے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی۔ آپؐ نے اس أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَتْ أَرَأَيْتَ إِنْ سے فرمایا کہ وہ آپ کے پاس پھر آئے۔ اس نے جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ كَأَنَّهَا تَقُوْلُ کہا: دیکھیں تو سہی اگر میں آؤں اور آپ کو نہ الْمَوْتَ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاؤں؟ گویا وہ یہ کہتی تھی کہ اگر آپ فوت إِنْ لَّمْ تَجِدِيْنِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ۔ ہو جائیں ؟ تو تو آنحضرت صلی علیم نے فرمایا: اگر تم اطرافه: ۷۲۲۰، ۷۳۶۰ مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس آنا۔