صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 152
صحیح البخاری جلد ۱۵۲ -۲- کتاب فضائل أصحاب النبي حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوہاب نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں ایسا ہی بتایا۔عَنْ أَيُّوبَ مِثْلَهُ۔اطرافه ۴۶۷ ۳۶۵۶، ۶۷۳۸ :٣٦٥٨ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ :۳۶۵۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَتَبَ ایوب نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی۔أَهْلُ الْكُوفَةِ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي انہوں نے کہا: کوفہ والوں نے (حضرت عبد اللہ ) الْجَةِ فَقَالَ أَمَّا الَّذِي قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ بن زبیر کو دادا ( کی میراث ) کے متعلق لکھا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِدا انہوں نے جواب دیا: وہ شخص جس کے متعلق مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيْلًا لَاتَّخَذْتُهُ أَنْزَلَهُ رسو اللہ سلیم نے یہ فرمایا کہ اگر میں نے اس امت میں سے کسی کو جانی دوست بنانا ہوتا تو میں أَبًا يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ۔اس کو بناتا، اس شخص نے دادا کو بمنزلہ باپ قرار دیا ہے۔اس سے مراد اُن کی حضرت ابو بکرہ تھی۔٣٦٥٩ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ وَمُحَمَّدُ :۳۶۵۹ حمیدی اور محمد بن عبد اللہ نے ہم سے بْنُ عُبَدِ اللهِ قَالَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بیان کیا۔ان دونوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ أَنَتِ امْرَأَةَ کے باپ نے محمد بن جبیر بن مطعم سے ، محمد نے اپنے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی۔آپ نے اس تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَتْ أَرَأَيْتَ إِنْ سے فرمایا کہ وہ آپ کے پاس پھر آئے۔اس نے جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ كَأَنَّهَا تَقُوْلُ ہا: دیکھیں تو سہی اگر میں آؤں اور آپ کو نہ الْمَوْتَ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاؤں؟ گویا وہ یہ کہتی تھی کہ اگر آپ فوت إِنْ لَّمْ تَجِدِيْنِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ۔ہو جائیں؟ تو آنحضرت صلیم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ایر پکڑ کے پاس آنا۔اطرافه: ۷۲۲۰ ۷۳۶۰