صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 151 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 151

صحیح البخاری جلد ادا کتاب فضائل أصحاب النبي الام بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخَيْرُ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ میں سے ایک کو دوسرے سے بہتر قرار دیا کرتے بْنَ الْخَطَّابِ ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تھے اور سمجھتے کہ حضرت ابو بکر سب سے بہتر ہیں پھر حضرت عمر بن خطاب، پھر حضرت عثمان بن رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ۔طرفه: ۳۶۹۷۔عفان رضی اللہ عنہم۔بابه : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيْلًا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: اگر میں نے کسی کو جانی دوست بنانا ہوتا قَالَهُ أَبُو سَعِيدٍ۔حضرت ابوسعید نے اس کو نقل کیا۔٣٦٥٦: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ ۳۶۵۶ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا إِبْرَاهِيْمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ کہ وہیب نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، الله عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: { اپنی امت میں سے } وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذَا مِنْ اگر میں نے کسی کو جانی دوست بنانا ہو تا تو میں أُمَّتِي خَلِيْلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ابو بکر کو بناتا۔مگر وہ میرے بھائی ہیں اور وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي۔اطرافه ۴۶۷ ،۳۶۵۷، ۶۷۳۸- میرے رفیق ہیں۔٣٦٥٧: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ۳۶۵۷ : معلی بن اسد اور موسیٰ بن اسماعیل وَمُوْسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ التَّبُوذَكِيُّ قَالَا تبوز کی نے ہم سے بیان کیا۔ان دونوں نے کہا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ وَقَالَ لَوْ وہیب نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں كُنْتُ مُتَخِذَا خَلِيْلًا لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيْلًا یہی بتایا اور اس میں یہ الفاظ ہیں: اگر میں نے جانی وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ۔دوست بنانا ہوتا تو میں اس کو جانی دوست بنا تا لیکن اسلام کی برادری ہی افضل ہے۔1) الفاظ مين ألتميتى فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۲۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔