صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 151
صحیح البخاری جلدی ۱۵۱ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخَيْرُ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ میں سے ایک کو دوسرے سے بہتر قرار دیا کرتے بْنَ الْخَطَّابِ ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تھے اور سمجھتے کہ حضرت ابو بکر سب سے بہتر ہیں رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ۔ طرفه: ۳۶۹۷ پھر حضرت عمر بن خطاب، پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم ۔ بَابه : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: اگر میں نے کسی کو جانی دوست بنانا ہوتا قَالَهُ أَبُو سَعِيدٍ۔ ره حضرت ابو سعید نے اس کو نقل کیا۔ ٣٦٥٦: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ ۳۶۵۶ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ کہ وہیب نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے عکرمہ سے، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: { اپنی امت میں سے } وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذَا مِنْ اگر میں نے کسی کو جانی دوست بنانا ہوتا تو میں أُمَّتِي } خَلِيْلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ابو بکر کو بناتا۔ مگر وہ میرے بھائی ہیں اور وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي۔ اطرافه : ۴۶۷، ۶۷۳۸،۳۶۵۷ ٣٦٥٧: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ میرے رفیق ہیں۔ ۳۶۵۷ معلی بن اسد اور موسیٰ بن اسماعیل وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ التَّبُوذَ كِيُّ قَالَا تبوز کی نے ہم سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ وَقَالَ لَوْ وہیب نے ایوب سے روایت کرتے ہوئے ہمیں كُنْتُ مُتَّخِذَا خَلِيْلًا لَا تَّخَذْتُهُ خَلِيْلًا یہی بتایا اور اس میں یہ الفاظ ہیں: اگر میں نے جانی وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ۔ دوست بنانا ہوتا تو میں اس کو جانی دوست بنا تا لیکن اسلام کی برادری ہی افضل ہے۔ 1) الفاظ من أمتي فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔ (فتح الباری جزء کے حاشیہ صفحہ ۲۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔