صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 150
صحیح البخاری جلدی ۱۵۰ ۱۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صلي الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ ذَلِكَ کرے یا اس نعمت کو پسند کرے جو اللہ کے پاس الْعَبْدُ مَا عِنْدَ اللهِ قَالَ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ہے تو اس بندے نے وہ نعمت پسند کی جو اللہ کے فَعَجِبْنَا لِبُكَائِهِ أَنْ يُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ پاس ہے۔ (ابو سعید) کہتے تھے: یہ سن کر حضرت ابو بکر رو پڑے اور ہم نے ان کے رونے پر تعجب صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدِ خَيْرَ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک ایسے الله فَكَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بندے کا ذکر فرما رہے ہیں جس کو اختیار دیا گیا وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ اور حضرت ابو بکر سن کر رو پڑے۔ ) در حقیقت أَعْلَمَنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله اس سے مراد رسول اللہ صلی علیم ہی تھے جنہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَيَّ اختیار دیا گیا اور حضرت ابو بکر ہم (صحابہ ) میں سے سب سے زیادہ (اس بات کا ) علم رکھنے والے فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ وَلَوْ تھے۔ ( اس لئے آپ رو پڑے۔) رسول اللہ كُنْتُ مُتَّخِذَا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگوں سے مجھ پر لَا تَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أُخُوَّةُ سب سے زیادہ احسان کرنے والے بلحاظ اپنی الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ لَا يَبْقَيَنَّ فِي صحبت ت اور بلحاظ مال خرچ کرنے کے ابو بکر ہیں اور الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ اگر میں نے کسی کو اپنے رب کے سوا جانی دوست أَبِي بَكْرٍ۔ بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا۔ البتہ اسلام کی اخوت اور اس کی محبت ان سے ہے۔ مسجد میں آنے کے لئے کسی کا دروازہ کھلا نہ رہے، سارے بند کر دیئے جائیں مگر ابو بکر کا دروازہ کھلا رہے گا۔ اطرافه: ۴۶۶، ۳۹۰۴ بَاب ٤ : فَضْلُ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر کی فضیلت ٣٦٥٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۳۶۵۵ : عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى کیا کہ سلیمان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحییٰ بن بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ سعید سے، بچی نے نافع سے، نافع نے حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نُخَيِّرُ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے