صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 149 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 149

صحیح البخاری جلد ۱۴۹ -۲۲ کتاب فضائل أصحاب النبي ال تُرِيحُونَ (النحل : ٧) بِالْعَشِي تَسْرَحُونَ جب تم انہیں شام کو چراکر لاتے ہو۔جب تم (النحل: ٧) بِالْغَدَاةِ۔اطرافه: ۲۴۳۹، ۳۶۱۵، ۳۹۰۸، ۳۹۱۷، ۵۶۰۷ انہیں (صبح) چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہو۔٣٦٥٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ :۳۶۵۳ محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ ہمام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ثابت سے ، ثابت عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ نے حضرت انس سے ، حضرت انس نے حضرت قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو بکر سے روایت کی۔وہ کہتے تھے : میں الله وَأَنَا فِي الْغَارِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اور میں اس وقت تَحْتَ قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا فَقَالَ مَا ظَنُّكَ غار میں تھا کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کے نیچے نگاہ ڈالے تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔تو آپ يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا۔نے فرمایا: ابو بکر! آپ کا کیا خیال ہے ان دو اطرافه: ۳۹۲۲، ۴۶۶۳ شخصوں کی نسبت جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔بَاب : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُّوا الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمام دروازے بند کر دو سوائے ابو بگڑ کے دروازے کے قَالَهُ ابْنُ عَبَّاس عَنِ النَّبِي حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ نام سے یہ نقل کیا۔٣٦٥٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۳۶۵۴ عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْح ابو عامر نے ہمیں بتایا۔ملیح ( بن سلیمان) نے ہم قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ عَنْ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: سالم ابو نصر نے مجھے سے بیان کیا۔انہوں نے بسر بن سعید سے، بسر نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اللہ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ دنیا کو پسند