صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 149
صحیح البخاری جلدی ۱۴۹ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صم تُرِيحُونَ (النحل: ٧) بِالْعَشِيِّ۔ تَسْرَحُونَ جب تم انہیں شام کو چرا کر لاتے ہو ۔ جب تم (النحل: ۷) بِالْغَدَاةِ۔ اطرافه: ۲۴۳۹، ۳۶۱۵، ۳۹۰۸، ۳۹۱۷، ۵۶۰۷ انہیں (صبح) چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہو۔ ٣٦٥٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ۳۶۵۳ : محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے، ثابت عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ نے حضرت انس سے، حضرت انس نے حضرت قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو بكر الله وَأَنَا فِي الْغَارِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اور میں اس وقت تَحْتَ قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا فَقَالَ مَا ظَنُّكَ غار میں تھا کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کے رضي سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے : میں نیچے نگاہ ڈالے تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ تو آپ يَا أَبَا بَكْرِ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا۔ نے فرمایا: ابو بکر ! آپ کا کیا خیال ہے ان دو اطرافه: ۳۹۲۲، ۴۶۶۳ شخصوں کی نسبت جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔ بَاب : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُّوا الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمام دروازے بند کر دو سوائے ابو بکر کے دروازے کے قَالَهُ ابْنُ عَبَّاس عَنِ النَّبِي ۔ حضرت رت ابن عباس نے نبی صلی العلیم سے یہ نقل کیا۔ ٣٦٥٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۳۶۵۴ : عبد اللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فَلَيْحٌ ابو عامر نے ہمیں بتایا۔ فلیح ( بن سلیمان) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سالم ابو نصر نے مجھ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ عَنْ سے بیان کیا۔ انہوں نے بسر بن سعید سے ، بسر بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اللہ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ دنیا کو پسند