صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 148 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 148

صحیح البخاری جلد ۱۴۸ -۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي فَعَرَفْتُهُ فَقُلْتُ هَلْ فِي غَنَمِكَ مِنْ نے اس کو پہچان لیا۔میں نے کہا : کیا تمہاری لَّبَن قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَهَلْ أَنْتَ بکریوں میں کچھ دودھ ہے ؟ اس نے کہا: ہاں۔میں حَالِبٌ لَّنَا قَالَ نَعَمْ فَأَمَرْتُهُ فَاعْتَقَلَ نے کہا: کیا تم ہمارے لیے کچھ دودھ دوہو گے ؟ اس نے کہا: ہاں، چنانچہ میں نے اسے دودھ دوہنے شَاةً مِّنْ غَنَمِهِ ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ يُنْفُضَ کے لئے کہا۔اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک ضَرْعَهَا مِنَ الْعُبَارِ ثُمَّ أَمَرْتُهُ أَنْ بکری کی ٹانگ اپنی پنڈلی اور ر ان کے درمیان يَنْفُضَ كَفَّيْهِ فَقَالَ هَكَذَا ضَرَبَ پکڑی۔پھر میں نے اس سے کہا کہ اس کا تھن غبار إِحْدَى كَفَّيْهِ بِالْأُخْرَى فَحَلَبَ لِي جھاڑ کر صاف کرلے۔پھر میں نے اس سے کہا کہ كُتْبَةً مِنْ لَّبَنِ وَقَدْ جَعَلْتُ لِرَسُولِ اپنی ہتھیلیوں کو بھی جھاڑ کر صاف کرلے۔حضرت اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِدَاوَةً براڈ نے اپنی ایک ہتھیلی دوسری پر مار کر بتایا کہ اس طرح۔اس نے اپنے ہاتھوں کو جھاڑا اور میرے عَلَى فَمِهَا خِرْقَةٌ فَصَبْتُ عَلَى اللَّبَنِ لئے ایک پیالہ بھر دودھ دوہا اور میں نے رسول اللہ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلَهُ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى صلى اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چھا گل رکھ لی تھی۔النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقْتُهُ اس کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا تھا تو میں نے اتنا پانی قَدِ اسْتَيْقَظَ فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ دودھ میں ڈالا کہ وہ نیچے تک ٹھنڈا ہو گیا۔میں اس اللَّهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيْتُ ثُمَّ قُلْتُ کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور قَدْ آنَ الرَّحِيْلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ میں آپ کے پاس ایسے وقت میں پہنچا کہ آپ جاگ پڑے تھے۔میں نے کہا: یارسول اللہ ! بَلَى فَارْتَحَلْنَا وَالْقَوْمُ يَطْلُبُوْنَنَا پئیں۔اور آپ نے اتنا پیا کہ میں خوش ہو گیا۔پھر فَلَمْ يُدْرِكْنَا أَحَدٌ مِنْهُمْ غَيْرُ سُرَاقَةَ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کوچ کا وقت آ پہنچا ہے۔: بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُم عَلَى فَرَسٍ آپ نے فرمایا: ہاں۔اور ہم وہاں سے چل پڑے لَّهُ فَقُلْتُ هَذَا الطَّلَبُ قَدْ لَحِقَنَا اور لوگ ہماری تلاش کر رہے تھے اور ان میں سے يَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ کسی نے بھی ہم کو نہ پایا سوائے سراقہ بن مالک بن جعشم کے جو اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ ڈھونڈنے والے ہم سے آملے۔آپ نے فرمایا: فکر نہ کرو۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔معنا (التوبة: ٤٠ )