صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 146
صحیح البخاری جلدی ۱۳۶ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صلي کی تعریف سے نکل جاتے ہیں۔ غرض اس بارے میں امام بخاری کی تعریف درست ہے : مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ أَوْ رَآهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ مِنْ أَصْحَابِہ اس تعریف میں مِنَ الْمُسْلِمِينَ کی تخصیص قابل توجہ ہے کہ ایسا دیکھنے والا مسلمان ہو۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶، ۷) باب ۲ : مَنَاقِبُ الْمُهَاجِرِينَ وَفَضْلُهُمْ مہاجرین کے اوصاف اور ان کی فضیلت مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي ان میں سے ایک حضرت ابو بکر عبد اللہ بن قُحَافَةَ التَّيْمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔ ابی قحافہ تیمی رضی اللہ عنہ تھے۔ وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى : لِلْفُقَرَاءِ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یہ مال مہاجر غریبوں الْمُهْجِرِينَ الَّذِينَ أَخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ کا حق ہے جن کو ان کے گھروں اور مالوں سے وَ أَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ ( بیدخل کر کے) نکال دیا گیا تھا۔ وہ اللہ کا وَ رِضْوَانًا وَ يَنْصُرُونَ اللهَ وَرَسُوله فضل اور اس کی رضا چاہتے۔ رضا چاہتے ہیں اور (ہمیشہ) اللہ أولَئِكَ هُمُ الصَّدِقُونَ (الحشر : ٩) (کے دین کی) اور اس کے رسول کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ یہی لوگ ( ایمان میں ) سچے ہیں۔ وَقَالَ: إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ اور فرمایا: اگر تم اس رسول کی مدد نہ کرو (تو یا درکھو) إِلَى قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (التوبة : ٤٠) کہ اللہ اس کی اس وقت بھی مدد کر چکا ہے جبکہ اسے کافروں نے دو میں سے ایک کی صورت میں نکال دیا تھا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے اور جبکہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ کسی گذشتہ بھول چوک پر غم نہ کرو اللہ یقیناً ہمارے ساتھ ہے۔ قَالَتْ عَائِشَةُ وَأَبُو سَعِيدٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ حضرت عائشہ اور حضرت ابوسعید اور حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ مَعَ ابن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: غار میں نبی صلی اللہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ۔ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر تھے۔ ٣٦٥٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ ۳۶۵۲ : عبد اللہ بن رجاء نے ہم سے بیان کیا کہ