صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 144
صحیح البخاری جلد م ۱۴ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي الام فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت میں رہا ہو ؟ زَمَانٌ فَيَغْزُوْ فِنَامٌ مِّنَ النَّاسِ فَيُقَالُ وہ کہیں گے: ہاں۔تو ان کو (اس کی برکت سے ) فِيْكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ فتح دی جائے گی۔پھر لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جوق در جوق لوگ حملے کے لئے نکلیں گے اور وَسَلَّمَ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ۔پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو ایسے شخص کے ساتھ رہا ہو جو رسول اللہ صلی اللہ اطرافه ۳۵۹۴،۲۸۹۷ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت میں رہ چکا ہو تو کہیں گے : ہاں۔تو ان کو فتح دی جائے گی۔٣٦٥٠: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۳۶۵۰ : اسحاق بن راہویہ ) نے ہم سے بیان کیا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ کہ نفر نے ہمیں بتایا۔شعبہ نے ابو جمرہ سے سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِبٍ قَالَ روایت کی۔(انہوں نے کہا: ) میں نے زہدم بن الله مضرب سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ عَنْهُمَا يَقُوْلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے: ثُمَّ رسول اللہ صلی اللہ کریم نے فرمایا: میری امت کی صدیوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي میں سے بہترین صدی میری ہے۔پھر اُن لوگوں کی الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ قَالَ جو معاً اُن کے بعد ہوں گے۔پھر اُن لوگوں کی جو عِمْرَانُ فَلَا أَدْرِي أَذكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ معا ان کے بعد ہوں گے۔حضرت عمران کہتے تھے: قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا میں نہیں جانتا آپ نے اپنی صدی کے بعد دو يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُوْنَ وَيَخُوْنُوْنَ صدیوں یا تین صدیوں کا ذکر کیا۔(پھر فرمایا : ) پھر وَلَا يُؤْتَمَنُوْنَ وَيَنْذُرُوْنَ وَلَا يَفُونَ تمہارے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو شہادت دیں گے ، بحالیکہ شہادت کیلئے نہ بلائے جائیں گے۔اور خیانت کریں گے اور انہیں امین نہ سمجھا جائے گا اور منتیں مانیں گے اور پوری نہیں کریں گے۔اور حرام مال کھا کھا کر) ان میں موٹا پاخوب ہو گا۔وَيَظْهَرُ فِيْهِمُ السِّمَنُ۔اطرافه ۶۶۹۵،۶۴۲۸،۲۶۵۱