صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 144 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 144

صحیح البخاری جلدی ۱۴۴۴ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صلي فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت میں رہا ہو ؟ زَمَانٌ فَيَغْزُوْ فِتَامٌ مِّنَ النَّاسِ فَيُقَالُ وہ کہیں گے: ہاں۔ تو ان کو (اس کی برکت سے ) فِيْكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ فتح دی جائے گی۔ پھر لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جوق در جوق لوگ حملے کے لئے نکلیں گے اور وَسَلَّمَ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ۔ پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو ایسے شخص کے ساتھ رہا ہو جو رسول اللہ صلی اللہ اطرافه ۲۸۹۷، ۳۵۹۴ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت میں رہ چکا ہو تو کہیں گے : ہاں۔ تو ان کو فتح دی جائے گی۔ ٣٦٥٠: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۳۶۵۰ : اسحاق بن راہویہ ) نے ہم سے بیان کیا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ کہ نفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ابوجمرہ سے سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ قَالَ روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے زہدم بن سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ مغرب سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عَنْهُمَا يَقُوْلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی علیہ سلم نے فرمایا: میری امت کی صدیوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ میں سے بہترین صدی میری ہے۔ پھر اُن لوگوں کی الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ قَالَ جو معا اُن کے بعد ہوں گے۔ پھر اُن لوگوں کی جو عِمْرَانُ فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ معا اُن کے بعد ہوں گے۔ حضرت عمران کہتے تھے : قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا میں نہیں جانتا آپ نے اپنی صدی کے بعد دو يَشْهَدُوْنَ وَلَا يُسْتَشْهَدُوْنَ وَيَخُوْنُوْنَ صدیوں یا تین صدیوں کا ذکر کیا۔ (پھر فرمایا: ) پھر وَلَا يُؤْتَمَنُوْنَ وَيَنْذُرُوْنَ وَلَا يَفُوْنَ تمہارے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو شہادت دیں گے ، بحالیکہ شہادت کیلئے نہ بلائے جائیں گے۔ اور وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ۔ خیانت کریں گے اور انہیں امین نہ سمجھا جائے گا اور منتیں مانیں گے اور پوری نہیں کریں گے ۔ اور حرام مال کھا کھا کر) ان میں موٹا پا خوب ہو گا۔ اطرافه ۲۶۵۱، ۶۶۹۵،۶۴۲۸