صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 140
صحیح البخاری جلد ۶۱- كتاب المناقب لَهُ كَذَلِكَ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخَرًا ضرورت کے وقت دوسروں کا محتاج نہ ہو { اور وہ وَرِيَاءً وَنِوَاءً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَهِيَ وِزُرٌ اس کیلئے بچاؤ کا سبب ہوں اور مانگنے کی ضرورت وَسُئِلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نہ رہے۔وہ اللہ کا حق بھی نہ بھولا جو اُن کی گردنوں اور اُن کی پیٹھوں میں ہے تو وہ اس کے لئے بھی وَسَلَّمَ عَن الْحُمُرِ فَقَالَ مَا أُنْزِلَ اسی طرح پردہ پوشی کا موجب ہوں گی۔اور ایک عَلَيَّ فِيْهَا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ شخص ہے جس نے ان کو فخر اور ریاء کے لئے اور الْفَاذَةُ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا اہل اسلام کی دشمنی کی غرض سے باندھے رکھا تو وہ يرَةَ وَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَراً وبال ہی ہوں گے ؛ اور نبی صلی ا ہم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ان کے متعلق مجھے پر سوائے اس اکیلی جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں کیا گیا۔جس نے ذرہ بھر نیکی کی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بھی بدی کی وہ يرة (الزلزال : ٨، ٩) بھی اس کو دیکھ لے گا۔اطرافه : ۲۳۷۱ ، ۲۸۶۰، ۴۹۶۲، ۴۹۶۳، ۷۳۵۶- ٣٦٤٧ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۳۶۴۷ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ سفيان بن عيينہ ) نے ہمیں بتایا کہ ایوب نے ہم مُّحَمَّدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ سے بیان کیا کہ محمد بن سیرین) سے روایت ہے اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ صَبَّحَ رَسُوْلُ اللَّهِ کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً سنا۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح سویرے ہی خیبر پر حملہ کیا اور وہ کرالیں لے وَقَدْ خَرَجُوْا بِالْمَسَاحِي فَلَمَّا رَأَوْهُ کر (زراعت کیلئے) باہر نکل چکے تھے۔جب انہوں قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْحَمِيْسُ وَأَجَالُوا إِلَى نے آپ کو دیکھا تو وہ کہنے لگے: یہ تو محمد مع لشکر الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اپنے اور وہ دوڑتے ہوئے قلعہ کی طرف چلے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللهُ أَكْبَرُ گئے۔بی سی ایم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ي خَرَبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ فرمایا: الله اکبر ! خیبر برباد ہو گا۔ہم جب کسی قوم