صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 137
صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ۔قَالَ اُن کی مخالفت کرے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم عُمَيْرٌ فَقَالَ مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ قَالَ آجائے گا جبکہ وہ اسی حالت میں ہوں گے۔تعمیر کہتے تھے کہ یہ سن کر مالک بن بیخا مر نے کہا کہ حضرت معاذ بن جبل نے ہمیں بتایا کہ یہ لوگ مُعَاذْ وَهُمْ بِالشَّأْمِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا يَقُوْلُ وَهُمْ بِالشَّامِ۔اطرافه: ۱، ۳۱۱۶، ۷۳۱۲، ۷۴۶۰ ریم شام میں ہی ہیں۔حضرت معاویہ نے کہا: یہ دیکھو۔مالک کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاذ سے سنا۔وہ کہتے تھے: وہ شام میں ہی ہیں۔٣٦٤٢: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۳۶۴۲: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا شَبِيْبُ بْن سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ شبیب بن غرقدہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے اپنے غَرْقَدَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَيَّ يَتَحَدَّثُوْنَ قبیلے والوں سے سنا۔وہ حضرت عروہ سے روایت عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کرتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ نبی صلی ا ہم نے وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ دِيْنَارًا يَشْتَرِي لَهُ بِهِ ان کو ایک دینار دیا کہ وہ اس سے آپ کے لئے شَاةً فَاشْتَرَى لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ فَبَاعَ ایک بکری خرید میں تو انہوں نے اس سے آپ کے لیے دو بکریاں خریدیں۔ان میں سے ایک إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ فَجَاءَ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ بکری ایک دینار پر بیچ دی۔پھر وہ { آپ کے پاس} فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ وَكَانَ لَوِ ایک دینار اور ایک بکری لے آئے۔آنحضرت اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِّحَ فِيْهِ۔صلی ایم نے ان کے لئے دعا کی کہ ان کی تجارت میں برکت ہو اور وہ ایسے تھے کہ اگر مٹی خریدتے تو اُس میں بھی فائدہ اٹھاتے۔قَالَ سُفْيَانُ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ سفیان نے کہا: حسن بن عمارہ نے یہ حدیث شبیب عُمَارَةَ جَاءَنَا بِهَذَا الْحَدِيْثِ عَنْهُ قَالَ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتلائی۔انہوں نے سَمِعَهُ شَبِيْبٌ مِنْ عُرْوَةَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ کہا کہ شبیب نے یہ حدیث حضرت عروہ سے سنی۔1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ فَجَاءَ ہے۔(فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۷۷۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔