صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 134 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 134

صحیح البخاری جلدی ۱۳۴ ۶۱ - كتاب المناقب أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً نے ان سے بیان کیا کہ اہل مکہ نے رسول اللہ فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ۔ صلی اللہ ہم سے مطالبہ کیا کہ ان کو کوئی نشان دکھائیں تو آپ نے شق القمر کا نشان ان کو دکھلایا۔ اطرافه ۳۸۶۸، ۴۸۶۷، ۴۸۶۸ ٣٦٣٨: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَالِدٍ ۳۶۳۸: خلف بن خالد قرشی نے ہم سے بیان کیا الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ کہ بکر بن مضر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعفر جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ بن ربیعہ سے، جعفر نے عراک بن مالک سے، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عراک نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن مسعود سے، مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عبید اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ چاند نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ عَنْهُمَا أَنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ فِي زَمَانِ میں پھٹ کر دو ٹکڑوں میں ہو گیا۔ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه: ۳۸۷۰، ۴۸۶۶ تشريح : سَؤالُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُرِيَهُمُ النَّبِيُّ الآية : مشرکوں کا سوال کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کوئی نشان دکھائیں تو آپؐ نے انہیں شق القمر کا نشان دکھایا۔ اس معجزے کا ذکر ابھی گذر چکا ہے۔ باب کے نیچے تین روایتیں ہیں۔ پہلی روایت میں ہے کہ چاند نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھٹا ۔ یہ روایت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ تیسری روایت جو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے ، اس میں بھی یہی مضمون ہے۔ دوسری میں ہے کہ اہل مکہ کے مطالبہ پر انشقاق قمر کا نشان انہیں دکھایا گیا۔ ابو نعیم نے اپنی کتاب الدلائل میں عتبہ بن عبد اللہ بن عقبہ کے حوالے سے حضرت ابن مسعود کی روایت نقل کی ہے کہ میں نے چاند کا ایک ٹکڑ امنی کی پہاڑی پر دیکھا وَ نَحْنُ بِمَكَّةَ اور ہم اس وقہ وقت مکہ میں تھے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ (۷۷) جہاں تک امر واقعہ کا تعلق ہے وہ تو اتنا ہے کہ چاند میں شگاف نمودار ہوا اور صحابہ کرام اور دوسرے لوگوں نے اس کا مشاہدہ کیا۔ امام بخاری نے دیگر مبالغہ آمیز روایتیں قبول نہیں کیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی انگلی کے اشارہ سے چاند پھٹ گیا۔ جہاں تک طبعی عوامل کا سوال ہے تو ایسے انشقاق زلازل وغیرہ سے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ چاند ہماری زمین ہی کی طرح ایک گرہ ہے جس میں آتش فشاں پہاڑ ہیں