صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 133
صحیح البخاری جلد ۱۳۳ ۶۱ - كتاب المناقب سے اس وعدہ الہی کی طرف بھی اشارہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کی ذریت کے بارے میں ہوا تھا یعنی ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام و حضرت اسماعیل علیہ السلام وغیرہ کی نسبت برکت کا وعدہ الہی جس کا ایک حصہ بیت المقدس سے متعلق تھا اور وہ پورا ہوا اور دوسرا حصہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہ فاران اور وادی تیاء اور عربوں سے متعلق تھا اور اس حصہ موعودہ کا پورا ہونا بھی ضروری تھا کیونکہ بنی اسرائیل روحانی دولت کھو بیٹھے اور روایت زیر باب میں اس دولت کے کھوئے جانے کا ضمنا ذکر ہے۔یہ تعلق ہے اس روایت کا عنوان باب سے جو اصل مقصود ہے۔باب ۲۷: سُؤَالُ الْمُشْرِكِيْنَ أَنْ يُرِيَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مشرکوں کا یہ سوال کرنا کہ نبی صلی علی کرم ان کو کوئی نشان دکھائیں اور آپ نے ان کو شق القمر کا نشان دکھایا ٣٦٣٦: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۳۶۳۶: صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيْحِ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن ابی صحیح عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ سے ، انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے ابو معمر سے، اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابو معمر نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقَتَيْنِ فَقَالَ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تو النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا نبي صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو ! گواہ رہو۔اطرافه: ۳۸۶۹، ۳۸۷۱، ۴۸۶۴، ۴۸۶۵ ٣٦٣٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۶۳۷ عبد اللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ یونس نے ہمیں بتایا کہ شیبان نے ہم سے بیان کیا۔قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ۔ح۔وَقَالَ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن لِي خَلِيْفَةً حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ مالک سے روایت کی۔نیز خلیفہ نے مجھ سے کہا کہ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ يزيد بن زُرَیع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید نے بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت