صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 132
صحیح البخاری جلد ۱۳۲ ۶۱ - كتاب المناقب مرکز ہو۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام بنی اسرائیل کو اپنی وفات سے پہلے آگاہ کر چکے تھے کہ ان کے بھائیوں بنی اسماعیل (عربوں) میں سے موسیٰ کی مانند ایک شرعی نبی برپا کیا جائے گا اور ان سے کہا گیا تھا کہ اس کی سنا اور پیروی کرنا۔(استثناء باب ۱۸:۱۸-۱۹) اور اسی کتاب کے باب ۳۳ میں اس نبی کے ظہور کی جگہ کی تعین کی گئی اور کھلے الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ وہ جبل فاران سے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ جلوہ گر ہو گا اور اس کے ہاتھ آتشی شریعت ہوگی۔(بائبل مطبوعہ ۱۸۷۰، استثناء باب ۳۳ ۲ یسعیاہ نبی علیہ السلام نے عرب کی بابت الہامی کلام کا عنوان قائم کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت تک کا ذکر کر کے پیشگوئی کی کہ قیدار (قریش) کی ساری حشمت خاک میں مل جائے گی اور اس کے پورا ہونے کی معیاد ایک برس بتلائی جو کہ دنوں کا برس ہے اور ہدایت کی گئی کہ ننگی تلوار اور کھینچی ہوئی کمان اور جنگ کی شدت سے بھاگنے والے کا استقبال کیا جائے۔(بائبل مطبوعہ ۱۸۷۰، یسعیاہ باب ۱۳:۲۱ تا ۱۷) حبقوق نبی کی پیشگوئی میں بھی کوہ فاران اور تیماء ( مدینہ) کی سر زمین کا ذکر ہے جہاں سے قدوس ظاہر ہونے والا تھا۔( حبقوق باب ۳: ۱ تا ۳) غرض حضرت موسیٰ کی مانند نبی عظیم والی پیشگوئی عہد نامہ قدیم کے متعدد نبیوں کے ذریعہ سے اس کی علامتوں کے ساتھ دُہرائی گئی ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب الحج شرح باب ۵۷ نیز دیباچه تفسیر القرآن صفحه ۶۵ تا۹۶ تحویل قبلہ کے تعلق میں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے وعدہ تھا کہ زمین کے سارے قبیلے تیرے وسیلے سے برکت پائیں گے۔(پیدائش باب ۱۲: ۱ تا۴) آپ نے حضرت سارہ اور حضرت اسحاق علیہما السلام کو بیت المقدس میں جو مشرق کا علاقہ ہے، آباد کیا اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو مغربی علاقے یعنی عرب میں۔آیت قُلْ لِلهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ (البقرة : ۱۴۳) میں ضمناً ان دونوں علاقوں سے متعلق وعدہ الہی کے پورا کئے جانے کا اشارہ ہے۔غرض آیت يَعرِفُونَہ میں کی کی ضمیر کا مرجع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بھی ہے اور پیشگوئی تحویل قبلہ بھی۔یعنی یہود و نصاریٰ یہ دونوں باتیں اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جس طرح اولاد والدین کی شکل و شباہت اور خد وخال سے پہچانی جاتی ہے۔اسی طرح یہ نئی شریعت اور اس کا شارع نبی اور تحویل قبلہ وغیرہ کے حکم کی صداقت اہل کتاب کے علماء کو خوب معلوم ہے لیکن ان اہل کتاب کا تو اپنا یہ حال تھا کہ زنا جیسے جرم کے ارتکاب پر دلیر اور تورات کی سزا نافذ کرنے سے کتراتے ہیں بلکہ سنگساری کی سزا کے تورات میں پائے جانے سے ہی منکر ہیں جس پر حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے انہیں جھٹلایا اور وہ یہودی علماء میں سے ایک جید عالم تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے۔یہ باب سابقہ باب کے تسلسل ہی میں ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق نبویہ سے متعلق ہے اور اس کا تعلق نبوت کی ان علامتوں کے ذکر سے ہے جو عہد نامہ قدیم کی کتابوں میں بھی مذکور ہیں۔قرآن مجید کی محولہ بالا آیت سے ان علامتوں کی طرف مجملاً توجہ دلائی گئی ہے۔بیٹوں کی شناخت کے ذکر