صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 131 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 131

صحیح البخاری جلد ۱۳۱ ۶۱ - كتاب المناقب ابْنُ سَلَامِ كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجُم کرنے کا حکم ہے۔وہ تورات لائے، اس کو کھولا تو فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا فَوَضَعَ ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ اس آیت پر رکھ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ فَقَرَأَ مَا دیا جس میں سنگسار کرنے کا حکم تھا اور اس کے قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللہ آگے اور پیچھے سے پڑھنے لگے۔حضرت عبد اللہ بن سلام نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اُٹھاؤ۔اس بْنُ سَلَامِ ارْفَعْ يَدَكَ فَرَفَعَ يَدَهُ فَإِذَا فِيْهَا آيَةُ الرَّحْم فَقَالُوا صَدَقَ يَا نے اپنا ہاتھ اُٹھایا تو کیا دیکھا کہ اس میں سنگسار کرنے کا حکم ہے۔یہ دیکھ کر یہودی کہنے لگے : محمد ؟ مُحَمَّدُ فِيْهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا (عبد اللہ بن سلام) نے سچ کہا ہے کہ تورات میں رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سنگسار کرنے کا حکم ہے۔چنانچہ آپ نے ان کے فَرُجِمَا قَالَ عَبْدُ اللهِ فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ متعلق یہی حکم دیا اور ان دونوں کو سنگسار کیا گیا۔يَجْنَأُ عَلَى الْمَرْأَةِ يَقِيْهَا الْحِجَارَةَ۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ) کہتے تھے: میں نے اس مرد کو دیکھا کہ وہ اس عورت پر جھک جاتا تھا اطرافه (۱۳۲۹، ۴۵۵۶، ۶۸۱۹ ، ۶۸۴۱، ۰۷۳۳۲ ۷۵۴۳ شریح: اور اس کو پتھروں سے بچاتا تھا۔ريح يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ ابْنَاءَهُم سیات کلام قبلہ کی تبدیلی سے تعلق ہے۔فرماتا ہے: سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (البقرة: ۱۴۳) کم عقل لوگ ضرور کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو ان کے اس قبلہ سے جس پر یہ (پہلے) تھے، کس چیز نے پھرا دیا ہے (جب وہ ایسا کہیں ) تو (ان سے ) کہنا کہ مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں۔وہ جسے چاہتا ہے، ایک سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں رہے اور تحویل قبلہ کی نسبت حکم نازل نہیں ہوا۔آپ کا قبلہ سابقہ قبلہ تھا یعنی بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔جب ہجرت کے بعد آپ مدینہ میں آئے اور تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو رُخ بدل گیا۔جس پر یہود معترض ہوئے اور انہیں جواب دیا گیا کہ اصل میں تو اطاعت الہی مقصود بالذات ہے۔مشرق و مغرب کی سمتوں کا سوال اہمیت نہیں رکھتا بلکہ مشیت الہی کو اختیار کرنا اور نفس کی مرضی کو پے مرضی مولی ترک کرنا مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک روز اول سے ہی مقدر تھا کہ بانجھ نغمہ سرائی کرے اور اس کی نسل شوہر والی سے زیادہ ہو۔وہ قوموں کی وارث بنے اور ویران شہروں کو آباد کرے اور اس کے لئے نیلم کے پتھروں سے پائیدار بنیاد اُٹھائی جائے۔(یسعیاہ باب ۵۴) جو تمام قوموں کے لئے ہدایت کا