صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 129 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 129

صحیح البخاری جلد ۱۲۹ ۶۱ - كتاب المناقب لفظوں میں فنا ہے۔وجہ یہ کہ جب انسان نے حسب مفہوم اس آیت ممدوحہ کے اپنا تمام وجود معہ اس کی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کو سونپ دیا اور اس کی راہ میں وقف کر دیا اور اپنی نفسانی جنبشوں اور سکونوں سے بکلی باز آگیا تو بلاشبہ ایک قسم کی موت اس پر طاری ہو گئی اور اسی موت کو اہل تصوف فنا کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔پھر بعد اس کے وَهُوَ مخین کا فقرہ مرتبہ بقا کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ جب انسان بعد فنائے اکمل و اتم و سلب جذبات نفسانی - الہی جذبہ اور تحریک سے پھر جنبش میں آیا اور بعد منقطع ہو جانے تمام نفسانی حرکات کے۔پھر ربانی تحریکوں سے پر ہو کر حرکت کرنے لگا تو یہ وہ حیاتِ ثانی ہے جس کا نام بقار کھنا چاہیے۔پھر بعد اس کے یہ فقرات فَلَةً أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ جو اثبات و ایجاب اجر و نفی و سلب خوف و حزین پر دلالت کرتی ہیں، یہ حالت لقا کی طرف اشارہ ہے۔۔۔اور اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اُس کا اثر پڑا کہ کوئی اُن میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی اُن میں پیدا ہوگئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا۔اسی معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے : وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَطى (الانفال :(۱۸) یعنی جب تو نے اُس مٹھی کو پھینکا، وہ تو نے نہیں پھینکا بلکہ خدا تعالیٰ نے پھینکا۔یعنی در پردہ الہی طاقت کام کر گئی۔انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔اور ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت صلی علیہ نام کا جو شق القمر ہے اسی الہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا۔کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے جو الہی طاقت سے بھری ہوئی تھی وقوع میں آگیا تھا اور اس قسم کے اور بھی بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی۔کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا، اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں