صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 128 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 128

صحیح البخاری جلد ۱۳۸ ۶۱ - كتاب المناقب بھی۔ہمارے اہل طریقت ( مشائخ ) نے اس مسئلہ سے غفلت برتی ہے۔میں نہیں جانتا کہ ان سے یہ غفلت قصداً ہوئی ہے یا انہیں اس ( نبوت عامہ یعنی مکالمہ و مخاطبہ الہیہ کی توفیق نہیں ملی یا انہوں نے اس کا ذکر کیا ہے اور یہ ذکر ہم تک نہیں پہنچا ان عبارتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ نبوت تشریع ختم ہے اور نبوت غیر تشریعی اپنی تمام قسموں کے ساتھ ہمیشہ موجود ہے اور یہ امر تمام اولیائے ربانی کو مسلم ہے۔خوف طوالت سے اسی ایک مدلل حوالے پر اکتفاء کیا جاتا ہے اور اگر حقیقت اسلام مد نظر رکھی جائے جس کی عنوان باب میں توجہ دلائی گئی ہے تو نہ صرف یہ امر بآسانی سمجھ میں آسکتا ہے بلکہ اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ خوارق کی حقیقت بھی منکشف ہو جاتی ہے۔عارف ربانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں فرماتے ہیں: ق اور اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اُس کی طرف اشارہ ہے۔یعنی ه که بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ) (البقرة : ۱۱۳) یعنی مسلمان وہ ہے جو خد اتعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجو د کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کے لئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اُس کی راہ میں لگا دیوے۔مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے۔اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو درحقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالص اللہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خداداد توفیق سے وابستہ ہیں، بجالا دے؛ مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبودِ حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے اس جگہ یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ آیت موصوفہ بالا یعنی ق بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَ لَا خَوْفٌ (البقرة : ۱۱۳) سعادت تامہ کے تینوں ضروری در جوں یعنی فنا اور بقا اور لقا کی طرف اشارت کرتی ہے کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں اسلم وَجْهَهُ لِلهِ کا فقرہ یہ تعلیم کر رہا ہے کہ تمام قومی اور اعضاء اور جو کچھ اپنا ہے خدا تعالیٰ کو سونپ دینا چاہیے اور اس کی راہ میں وقف کر دینا چاہیے اور یہ وہی کیفیت ہے جس کا نام دوسرے