صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 127
صحیح البخاری جلدی ۱۲۷ ۶۱ - كتاب المناقب اس مسئلہ میں دلائل دینے کے بعد شیخ اکبر لکھتے ہیں: فَالنُّبُوَّةُ سَارِيَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي الْخَلْقِ وَإِن كَانَ التَّشْرِيعُ قَدِ انْقَطَعَ فَالتَّشْرِيعُ جُزْءً مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ يَسْتَحِيلُ أَنْ يَنْقَطِعَ خَبْرُ اللَّهِ وَأَخْبَارُهُ مِنَ الْعَالَمِ إِذْ لَوِ انْقَطَةَ لَمْ يَبْقَ لِلْعَالَمِ غِذَاءُ يَتَغَذَّى بِهِ فِي بَقَاءِ وُجُودِهِ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (الكهف : ١١٠) ۔۔۔ فَهَذِهِ كَلِمَاتُ اللَّهِ لَا تَنْقَطِعُ وَهِيَ الْغِذَاءُ الْعَامُ لِجَمِيعِ الْمَوْجُودَاتِ ، فَهَذَا جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ لَا يَنْفَدُ فَأَيْنَ أَنْتَ مِنْ بَاقِي الْأَجْزَاءِ الَّتِي لَهَا ۔۔۔۔ الفتوحات المكية ، باب ۳ ، السؤال الثانى والثمانون : كم أجزاء النبوة، جزء ۲ صفحه ۸۹) یعنی نبوت مخلوق میں قیامت تک جاری و ساری رہے گی اگرچہ تشریع ختم ہو گئی ہے کیونکہ تشریع اجزاء نبوت میں سے ایک جزء ہے۔ اس لئے بھی کہ نا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود سے متعلق خبر و اطلاع اس جہان سے موقوف ہو۔ وجہ یہ کہ اگر یہ خبر و اطلاع کٹ جائے تو اس جہان کی وہ غذا باقی نہ رہے گی جس کے ذریعہ سے وہ اپنی بقاء کی غذا حاصل کرتا ہے یعنی ایمان باللہ حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا جس سے اس کی زندگی قائم ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے : کہو اگر میرے رب کے کلمات کے لئے سمندر روشنائی ہو جائے تو وہ سمندر ختم ہو جائے گا پیشر اس کے کہ میرے ربّ کے کلمات ختم ہوں خواہ ویسے ہی سمندر اور روشنائی ہم پھر لے آئیں۔ غرض کلماتِ الہیہ منقطع نہیں ہوتے اور وہ تمام مخلوقات کی عام غذا ہیں اور یہ غذا اجزاء نبوت میں سے ایک جزء ہے جو ختم نہیں ہوتی۔ نبوت کے جو باقی اجزاء ہیں جن کا تعلق کلمہ کُن سے ہے اور غیر محدود سلسلہ کلام و کلمات اللہ ہے تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ ختم ہو سکتا ہے۔ " وَأَمَّا النُّبُوَّةُ الْعَامَّةُ فَأَجْزَاءُ هَا لَا تَنْحَصِرُ وَلَا يَضْبِطُهَا عَدَدٌ فَإِنَّمَا غَيْرُ مُؤَقَّتَةٍ لَّهَا الْإِسْتِمْرَارُ دَائِمًا دُنْيَا وَ آخِرَةً وَهَذِهِ مَسْئَلَةٌ أَغْفَلَهَا أَهْلُ طَرِيقِنَا فَلَا أَدْرِي عَنْ قَصْدٍ مِنْهُمْ كَانَ ذَلِكَ أَوْ لَمْ يُوَقِّفُهُمُ اللَّهُ عَلَيْهَا أَوْ ذَكَرُوهَا وَمَا وَصَلَ ذَلِكَ الذِّكْرُ إِلَيْنَا ۔ “ (الفتوحات المكية، باب ۷۳ ، السؤال الثالث والثمانون: ما النبوة، جزء دوم صفحه ۸۹) یعنی نبوت عامہ (یعنی غیر تشریعی مکالمہ و مخاطبہ الہیہ ) جو ہے تو اس کی جزئیات بے حساب ہیں اور گفتی سے ضبط شمار میں نہیں آسکتیں کیونکہ وہ کسی وقت سے مخصوص نہیں وہ ہمیشہ ہمیش ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں