صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 127 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 127

صحیح البخاری جلد ۱۲۷ ۶۱ - كتاب المناقب اس مسئلہ میں دلائل دینے کے بعد شیخ اکبر " لکھتے ہیں: " فَالنُّبُوَّة سَارِيَةٌ إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِي الْخَلْقِ وَإِن كَانَ الشَّشْرِيةُ قَدِ انْقَطعَ فَالتَّشْرِيعُ جُزءٍ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ يَسْتَحِيْلُ أَن يَنْقَطِعَ خَبْرُ اللهِ وَأَخْبَارُهُ مِنَ الْعَالَمِ إذْ لَوِ انْقَطَعَ لَمْ يَبْقَ لِلْعَالَمِ غِذَا ۚ يَتَغَذَّى بِهِ فِي بَقَاءِ وُجُوْدِهِ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنْقَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ هَدَدًا (الكهف : ١١٠)۔۔۔فَهَذِهِ كَلِمَاتُ اللولا تَنْقَطِةُ وَهِيَ الْغِذَا الْعَامُ لِجَمِيعِ الْمَوْجُودَاتِ، فَهَذَا جُزُ وَاحِدٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبوَّة لَا يَنْفَدُ فَأَيْنَ أَنتَ مِنْ بَاقِ الْأَجْزَاء الَّتِي لَهَا۔۔۔“ (الفتوحات المكية۔باب ۳ السؤال الثاني والثمانون : كم أجزاء النبوة، جزء ۲ صفحه ۸۹) یعنی نبوت مخلوق میں قیامت تک جاری و ساری رہے گی اگر چہ تشریع ختم ہو گئی ہے کیونکہ تشریع اجزاء نبوت میں سے ایک جزء ہے۔اس لئے بھی کہ نا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود سے متعلق خبر و اطلاع اس جہان سے موقوف ہو۔وجہ یہ کہ اگر یہ خبر و اطلاع کٹ جائے تو اس جہان کی وہ غذا باقی نہ رہے گی جس کے ذریعہ سے وہ اپنی بقاء کی غذا حاصل کرتا ہے یعنی ایمان باللہ حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا جس سے اس کی زندگی قائم ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: کہو اگر میرے رب کے کلمات کے لئے سمندر روشنائی ہو جائے تو وہ سمندر ختم ہو جائے گا پیشتر اس کے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں خواہ ویسے ہی سمندر اور روشنائی ہم پھر لے آئیں۔غرض کلمات الہیہ منقطع نہیں ہوتے اور وہ تمام مخلوقات کی عام غذا ہیں اور یہ غذا اجزاء نبوت میں سے ایک جزء ہے جو ختم نہیں ہوتی۔نبوت کے جو باقی اجزاء ہیں جن کا تعلق کلمہ گن سے ہے اور غیر محدود سلسلہ کلام و کلمات اللہ ہے تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ ختم ہو سکتا ہے۔" وَأَما النُّبُوَّةُ العَامَّةُ فَأَجْزَاهَا لَا تَنْحَرُ وَلَا يَغْبِطُهَا عَدَدْ فَإِثْمَا غَيْرُ مُوَفَّتَةٍ لَّهَا الْإِسْتِمُرَارُ دَائِمًا دُنْيَا وَآخِرَةٌ وَهَذِهِ مَسْئَلَةٌ أَغْفَلَهَا أَهْلُ طَرِيقِنَا فَلَا أَدْرِي عَنْ قَصْدٍ مِنْهُمْ كَانَ ذَلِكَ أَو لَمْ يُوَقِّفَهُمُ اللَّهُ عَلَيْهَا أَوْ ذَكَرُوهَا وَمَا وَصَلَ ذَلِكَ الذِّكْرُ إِلَيْنَا۔“ (الفتوحات المكية، باب ۷۳ السؤال الثالث والثمانون: ما النبوة، جزء دوم صفحه ۸۹) یعنی نبوت عامہ (یعنی غیر تشریعی مکالمہ و مخاطبہ البہیہ ) جو ہے تو اس کی جزئیات بے حساب ہیں اور گفتی سے ضبط شمار میں نہیں آسکتیں کیونکہ وہ کسی وقت سے مخصوص نہیں وہ ہمیشہ ہمیش ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں