صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 126
صحیح البخاری جلدی ۱۴۶ ۶۱ - كتاب المناقب وَلَا يَزِيدُ فِي حُكْمِهِ شَرْعًا آخَرَ وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ أَيْ لَا نَبِيَّ بَعْدِي يَكُونُ عَلَى شَرْعٍ يُخَالِفُ شَرْعِي بَلْ إِذَا كَانَ يَكُونَ تَحْتَ حُكْمِ شَرِيعَتِي، وَلَا رَسُولَ أَيْ لَا رَسُوْلَ بَعْدِى إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ بِشَرْعٍ يَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ فَهَذَا هُوَ الَّذِي انْقَطَعَ وَسُدَّ بَابُهُ لَا مَقَامُ النُّبُوَّةِ فَإِنَّهُ لَا خِلَافَ أَنَّ عَيْنِى عَلَيْهِ السَّلَامُ نَبِي وَرَسُولٌ وَأَنَّهُ لَا خِلَافَ أَنَّهُ يَنْزِلُ فِي آخِرٍ الزَّمَانِ حَكَمًا مُقْسِطًا عَدَلًا بِشَرْعِنَا لَا بِشَرْعٍ آخَرَ ۔۔۔ وَنُبُوَّةُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ثَابِتَةً لَّهُ مُحَقَّقَةٌ فَهَذَا نَبِي وَرَسُولٌ قَدْ ظَهَرَ بَعْدَهُ ۔ وَهُوَ الصَّادِقُ فِي قَوْلِهِ إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ فَعَلِمْنَا قَطَعًا أَنَّهُ يُرِيدُ التَّشْرِيةَ خَاصَّةً ۔۔۔۔ فَالنُّبُوَّةُ مَقَام عِنْدَ اللَّهِ يَنَالُهُ الْبَشَرُ وَهُوَ مُخْتَصُّ بِالْأَكَابِرِ مِنَ الْبَشَرِ يُعْطَى لِلنَّبِيِّ الْمُشَرَّعِ وَيُعْطَى لِلتَّابِعِ لِهَذَا النَّبِيِّ الْمُشَرَّعِ الْجَارِي عَلَى سُنَّتِهِ “ (الفتوحات المكية ، باب ۷۳ : فى معرفة عدد ما يحصل من الأسرار للمشاهد عند المقابلة والانحراف، جزء ۲ صفحه ۶) یعنی وہ نبوت جو رسول اللہ صلی اللی ایم کے وجود سے منقطع ہو گئی ہے ، وہ تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقام نبوت۔ پس کوئی شریعت ایسی نہیں جو آنحضرت صلی علیہم کی شریعت کے شریعت کو منسوخ کر سکے اور نہ ہی کوئی شریعت آپ کے احکامات میں اضافہ ضافہ کر کر سکتی ہے۔ یہ مفہوم ہے آپ اعلی تعلیم کے قول کا کہ رسالت ، اور اور نہ نبوت منقطع ہو چکی ہے اور میرے بعد کے کوئی رسول اور نبی نہیں۔ یعنی میرے بعد کوئی (ایسا) نبی نہیں جو کسی ایسی شریعت پر قائم ہو جو میری شریعت کے مخالف ہو۔ بلکہ جب ہو گا تو میری شریعت کے حکم کے تابع ہو گا۔ اور کوئی رسول نہیں سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کی طرف کوئی ایسار سول نہیں ہو گا جو شریعت لے کر آئے جس کی طرف وہ انہیں بلائے۔ پس یہی ( نبوت) ہے جو منقطع ہو گئی ہے اور جس کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔ نہ کہ مقام نبوت۔ اور اس بات میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اور رسول ہیں کوئی اختلاف نہیں۔ اور یہ کہ وہ ہماری شریعت کے مطابق نہ کسی دوسری شریعت کے مطابق بطور تحکم و عدل فیصلہ کرنے والے نازل ہونگے ، اس میں بھی اختلاف نہیں۔۔۔ اور حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت ان کے لیے ثابت اور متحقق ہے اور وہ نبی اور رسول ہیں جو آپ صلی ایم کے بعد ظاہر ہونگے۔ آنحضرت صلی تعلیم اپنے اس قول میں راستباز ہیں کہ اراستباز ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ سو ہمیں قطعی طور پر اس سے علم ہو گیا کہ آپ کی مراد تشریع (یعنی شریعت والی نبوت) ہے۔ ۔۔۔۔ کیونکہ نبوت اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مقام ہے جو انسان کو حاصل ہوتا ہے اور یہ مقام مخصوص ہے، انسانوں میں سے بزرگوں کے لئے۔ شرعی نبی کو بھی عطا کیا جاتا ہے اور اس شرعی نبی کے تابع کو بھی جو اس کے طریق پر چلنے والا ہو ۔ صة المدرسية